پی آئی اے کی نجکاری، ملازمین کا کیا ہوگا؟ اراکین اسمبلی میں بحث، اہم انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

کرائے
(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد: پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ملازمین کے مستقبل کے متعلق اراکینِ اسمبلی میں بحث ہوئی جس کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق  سحر کامران کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی نجکاری کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا، کمیٹی میں پی آئی اے کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی میں 10 سال میں پی آئی اے پر واجب الادا قرضوں کی تفصیلات طلب کر لی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق کنوینر کمیٹی سحر کامران نے پوچھا وہ کون سے عوامل ہیں جن کے باعث پی آئی اے کے یہ حالات ہوئے؟ رکن کمیٹی صبا صادق نے کہا کہ پی آئی اے کی کارکردگی منفی انداز میں متاثر ہوئی۔ پہلے پوری دنیا میں دھاک بٹھائی، اب منہ چھپاتے ہیں۔ ہمیں ملازمین کی فکر ہے۔

رکن کمیٹی صبا صادق نے کہا کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے کے ملازمین کا کیا ہوگا؟پی آئی اے کی گرتی ہوئی ساکھ تشویشناک ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی مراعات کی تفصیلات بتائیں۔ پی آئی اے حکام نے کہا کہ پہلے پی آئی اے کی مناپلی تھی جو دیگر ائیر لائنز کی آمد سے ختم ہوگئی۔

پی آئی اے حکام نے کہا کہ مشرف دور میں نئے جہازوں کی خریداری ہوئی تھی، اس کے بعد پی آئی اے نے کوئی نیا جہاز نہیں خریدا۔ پی آئی اے کے 12 بوئنگ 777 جہازوں میں سے 6 یا 7 فعال ہیں۔ 34 میں سے 16 جہاز فعال ہیں۔ جو جہاز خراب ہوجائے، اس کے پرزے دوسرے جہاز میں لگائے جاتے ہیں۔

حکام نے کہا کہ دوبئی کی ہر ہفتے میں 80 فلائٹس آتی اور پاکستان کی 7 فلائٹس جاتی ہیں۔ کمیٹی نے سالانہ بنیادوں پر جہازوں کو دئیے گئے مقامی و بین الاقوامی روٹس کی تفصیلات بھی مانگ لیں۔ کمیٹی نے لائسنس جاری کرنے کے چارجز کی تفصیلات بھی مانگ لیں۔

Related Posts