سال 2050 تک فضائی سفر اور جہازوں کی پروازیں ختم ہوجائیں گی اور سمندر پر تیرتے ہوئے شہر بسائے جائیں گے، انسان جانوروں سے باتیں کرے گا اور پرائیویسی نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچے گی۔ حیران کن اور پریشان کردینے والی پیشگوئیاں سامنے آگئیں۔
آج دنیا جس دور سے گزر رہی ہے وہ اکیسویں صدی کا ایک ایسا دور ہے جس میں تیز رفتار ترقی نے انسان کی عقل کو ماؤف کرکے رکھ دیا ہے اور ہر انسان سوچتا ہے کہ آئندہ آنے والا دور کیسا ہوگا؟ اور آج کل اے آئی کی مدد اس قسم کی پیشگوئیاں کرنا ممکن بن گیا ہے۔ آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ 2050 تک سائنسی ترقی کے حوالے سے کون کون سی پیشگوئیاں سامنے آئی ہیں۔
سب سے پہلی پیشگوئی یہ ہے کہ آج کل ہر مقام اور ہر ڈیوائس میں استعمال ہونے والی بیٹریز کی جگہ نیوکلیئر ڈائمنڈ بیٹریز لے لیں گی جو 100 سال اور بعض روایات کے مطابق 1000 سال تک بھی چارج کیے بغیر استعمال کی جاسکیں گی۔
دوسری پیشگوئی یہ ہے کہ انسان جانوروں سے بات کرنے لگے گا کیونکہ آج کل مصنوعی ذہانت کی مدد سے وہیل مچھلیوں کے مابین بولی جانے والی زبان کو ڈی کوڈ کرنے کی کوشش جاری ہے۔ اگر ایسا ممکن ہوسکا تو جانور کیا کہتے ہیں، یہ جاننا آسان ہوجائے گا۔
تیسری پیشگوئی یہ ہے کہ پرائیویسی یعنی اپنی باتوں کو خفیہ یا راز رکھنا ناممکن ہوجائے گا کیونکہ اسمارٹ ڈسٹ سینسرز کی مدد سے کسی شہر یا ملک کی نہیں بلکہ پوری زمین کی سرگرمیوں کا پتہ چلانا آسان ہوجائے گا، جو ایک خوفناک پیشگوئی کہی جاسکتی ہے۔
چوتھی پیشگوئی یہ ہے کہ دنیا سمندر پر تیرتے ہوئے شہروں میں رہے گی، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جو آج کم و بیش 8 ارب 30 کروڑ ہے اور 2050 تک 10ارب کے لگ بھگ تک جا پہنچے گی سمندروں کی سطح بھی بلند ہورہی ہے، اس لیے دنیا کی بہت سی اقوام آج ایسے شہروں کی تعمیر کیلئے کمر کس چکی ہیں۔
ساتویں پیشگوئی یہ ہے کہ ماضی میں معدوم ہوجانے والے جانوروں کو زندہ کرنا ممکن ہوجائے گا اور ایک ایسے ہی پراجیکٹ کے تحت پرانے دور کے بھاری بھرکم ہاتھیوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا کام جاری ہے۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ 2050 تک یہ قدیم ہاتھی زندہ ہو کر ہمارے سامنے ہوگا۔
آٹھویں یپشگوئی یہ ہے کہ جہاز اور فضائی سفر کا تصور ختم ہوجائے گا، کیونکہ ہائپر اسپیڈ ٹرینز ہوائی جہازوں کی جگہ لے لیں گی اور انسان کے فضائی سفر کا مقصد بھی صرف ہوا میں اڑنا نہیں ہے کیونکہ اگر اڑنا ہی مقصود ہو تو اس کے اور بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں، مقصد اپنی منزل تک جلد پہنچنا ہے جو ہائپر اسپیڈ ٹرین پورا کردیا کرے گی جسے ویکیوم ٹرین بھی کہتے ہیں۔
نویں پیشگوئی یہ ہے کہ زمین کی ایک ڈیجیٹل جڑواں بہن پیدا کرلی جائے گی جس پر کام جاری ہے اور سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس ڈیجیٹل ٹوئن کی تخلیق کا مقصد زمین پر آنے والے موسموں اور قدرتی آفات کی 100فیصد درستگی سے پیشگوئی یقینی بنانا ہے۔
دسویں پیشگوئی یہ ہے کہ سائنس اور طب کے میدان میں ترقی کی رفتار تیز ہوجائے گی۔ ہر شخص کے پاس ایک اے آئی اسسٹنٹ ہوگا اور بائیوٹیکنالوجی اور جینیاتی تحقیق کی وجہ سے انسان ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل اور صحت مند زندگی جی سکے گا۔ کینسر جیسی بیماریوں کی جسم کو متاثر کرنے سے بھی سے طویل عرصہ قبل تشخیص اور علاج کرلیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








