اسرائیل فوجی کی جانب سے لبنان میں حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کی بے حرمتی کی تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تصاویر میں ایک اسرائیلی فوجی کو مجسمہ نقصان پہنچاتے ہوئے دکھایا گیا جس پر صارفین نے سخت ردعمل دیا اور اسے مذہبی علامات پر حملہ قرار دیا۔ کئی افراد نے اس معاملے پر مغربی دنیا کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے۔
یہ ردعمل اس وقت مزید بڑھ گیا جب ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک فوجی کو جیک ہیمر کے ذریعے لبنان کے قصبے دیر سیریان میں حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کے سخت بے حرمتی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کی۔
پیر کے روز اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر حقیقی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور خطے میں پہلے ہی نازک جنگ بندی اور مسیحی برادری کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی موجود ہے۔
The IDF is currently examining the reliability of the photograph.
If this is indeed a real, recent picture, these actions do not align with the IDF’s values and the behavior expected of IDF soldiers.The incident will be investigated thoroughly and in depth, and if… pic.twitter.com/xMTtEMp4dS
— LTC Nadav Shoshani (@LTC_Shoshani) April 19, 2026
یہ افسوسناک واقعہ اس دعوے کے برعکس سامنے آیا ہے جس میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ وہ شہری ڈھانچے، بشمول مذہبی مقامات اور علامات کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
امریکہ کی سابق رکنِ کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے اس پیش رفت پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اربوں ڈالر کی امداد اور اسلحہ حاصل کرنے والا ملک جسے امریکہ کا قریبی اتحادی کہا جاتا ہے اس طرح کے اقدامات کیسے کر سکتا ہے۔
صحافی رائن گریم نے بھی اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوجی گزشتہ ڈھائی سال سے مسلسل اپنی کارروائیوں اور ثقافتی بے حرمتی کی تصاویر خود ہی شیئر کر رہے ہیں۔
This image was posted by an Israeli soldier in southern Lebanon. Israeli soldiers have been posting imagines of their war crimes and cultural desecration for two and a half years straight without interruption. https://t.co/g2nW5vcNv0
— Ryan Grim (@ryangrim) April 19, 2026
دوسری جانب مبصر اور سابق کانگریس رکن میٹ گیٹس نے اس واقعے کو نہایت خوفناک قرار دیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








