ہر انسان سے اس کا دماغ بہت کچھ چھپا لیتا ہے اور جو کچھ انسان دیکھتا یا سمجھتا ہے، حقیقت میں وہ یا تو جھوٹ ہوتا ہے یا جھوٹا ہوسکتا ہے۔ سائنسدانوں کی گزشتہ کئی برسوں میں کی گئی تحقیقات نے نت نئے راز کھول دئیے۔ سچ نے ہر حساس دل کو چونکنے پر مجبور کردیا ہے۔
سچ کیا ہے؟ یہ جاننے کیلئے سائنس کی زبان میں بات کی جائے تو سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ انسان جو کچھ دیکھتا ہے، وہ 80 ملی سیکنڈ قبل رونما ہوچکا ہوتا ہے۔ روشنی انسانی آنکھ کو چھوتی ہے اور بتاتی ہے کہ سامنے کیا ہے لیکن دماغ کو یہ سمجھنے میں ہی 80 ملی سیکنڈ لگ جاتے ہیں۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ دماغ کا پری فرنٹل کارٹیکس انسان کے فیصلہ کرنے سے 7سیکنڈ قبل ہی یہ فیصلہ کرچکا ہوتا ہے کہ فیصلہ کیا ہونا چاہئے جس میں زندگی کے بہت معمولی سے لے کر اہم اور حساس ترین فیصلے تک شامل ہیں۔ یوں انسان کی ذاتی رائے حقیقت ہے یا مذاق؟ یہ ایک راز بن کر رہ گیا ہے۔
تیسری حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں جو بھی رنگ انسان دیکھتا اور سمجھتا ہے، وہ حقیقت میں موجود نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ رنگ کی حقیقت صفر ہے لیکن رنگوں کی جگہ جو حقیقت موجود ہے وہ دیکھی نہیں جاسکتی۔ دماغ محسوس کرتا ہے کہ کون سی چیز نے کیا جذب کیا اور کیا منعکس کرتی ہے، وہی اس کا رنگ بن جاتا ہے۔جب تک انسان کا ویژول کارٹیکس اسے پینٹ نہ کردے، وہ رنگ حقیقت نہیں بن سکتا۔
چوتھی حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی انسان اپنا ماضی یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی ایک الگ تصویر ملتی ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ماضی کی کہانی طویل ہے اور دماغ اسے پوری طرح یاد کرکے ایک تصویر کی طرح سامنے نہیں رکھ سکتا لیکن ایک ہی سوال بار بار پوچھا جائے تو بھی زیادہ امکان اسی بات کا ہوتا ہے کہ ہر بار مختلف جواب ملے گا۔
پانچویں حقیقت یہ ہے کہ انسانی آنکھ میں ایک جگہ آپٹک نرو موجود ہوتی ہے جہاں ایک سوراخ ہوتا ہے اور فوٹو ریسیپٹرز موجود ہی نہیں ہوتے، اس حساب سے ہر آنکھ کو ایک سیاہ دھبہ بھی دیکھنا چاہئے کیونکہ وہاں تصویر دیکھنے کا کوئی اہتمام ہی نہیں، انسانی دماغ اسے پراسیسنگ کرتے ہوئے مٹا کر مکمل تصویر خود تخلیق کردیتا ہے۔
چھٹی حقیقت یہ ہے کہ انسانی دماغ 90 فیصد خوابوں کو از خود انسانی یادداشت سے حذف کردیتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کمپیوٹر چلانے والا کوئی شخص اس میں سے بہت سی تصویریں اور ویڈیوز ڈیلیٹ کرسکتا ہے، جاگنے کے صرف 5 منٹ بعد انسان اپنے آدھے خواب کی تصاویر اور ویڈیوز سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
ساتویں حقیقت یہ ہے کہ انسانی دماغ وقت کو ہمیشہ ایک ہی رفتار سے محسوس نہیں کرتا۔ آنکھوں اور توجہ کی کیفیت کے مطابق وقت کا ادراک بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ وال کلاک کو دیکھتے ہیں تو دماغ ہر لمحے کو ایک جیسا نہیں سمجھتا، بعض اوقات انتظار یا کم توجہ کی حالت میں چند سیکنڈز بھی نسبتاً زیادہ طویل محسوس ہو سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








