کراچی: سندھ حکومت کے سرکاری گوداموں سے8 ارب روپے کی گندم غائب ہوگئی، صوبے بھر میں آٹے اور گندم کا نیا بحران آنے کا خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمۂ خوراک نے سندھ کابینہ کو آگاہ کیا کہ سرکاری گودام سے کم و بیش 16 لاکھ ٹن گندم غائب ہوگئی، تاہم وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر قیادت صوبائی حکومت نے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز نہیں کیا۔
بلاول بتائیں 13 سالوں میں 8900 ارب کا بجٹ کہاں خرچ ہوا؟، حلیم عادل شیخ
گندم کابحران پیدا ہونے سے پہلے روکاجائے
سندھ حکومت ذخیرہ اندوزوں کیلئے گندم تاخیر سے ریلیز کرتی ہے، محمود مولوی
سرکاری دستاویز کے مطابق گوداموں سے 16 لاکھ 31 ہزار ٹن گندم غائب ہوئی جبکہ 83 کروڑ روپے کی گندم گوداموں میں رکھے رکھے خراب ہوگئی۔ محکمۂ خوراک سندھ نے 8 ارب 83کروڑ کی گندم غائب اور خراب ہونے کا اعتراف کرلیا۔
نجی ٹی وی سماء کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ حکومت کے گوداموں سے گندم غائب نہیں بلکہ چوری ہوئی ہے اور چوری کرنے والے لوگ محکمۂ خوراک سندھ سے تعلق رکھتے ہیں اور چوری کے بعد بھی اپنے عہدوں پر تعینات ہیں۔
سندھ کابینہ اجلاس کے دوران محکمۂ خوراک سندھ نے پریزنٹیشن دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ 16 لاکھ ٹن گندم جس کی مالیت 8 ارب روپے ہے، سرکاری گوداموں سے غائب ہوگئی تاہم وزیر اعلیٰ نے گندم چوروں کے خلاف کارروائی کی سفارش نہیں کی۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ میں اربوں روپے کی گندم ایک بار پھر غائب ہونے پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ماضی میں بھی سندھ حکومت کے گوداموں سے اربوں کی گندم غائب ہونے کا انکشاف سامنے آیا، بتایا گیا تھا کہ گندم کو چوہے کھا گئے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ بلاول زرداری صاحب، سندھ کی عوام جاننا چاہتی ہے 14 ارب کی گندم کونسے چوہے کھا گئے؟ محکمہ خوراک 150 ارب کا مقروض ہے، عوام کو مہنگا آٹا مل رہا ہے۔
حلیم عادل شیخ نے 11 روز قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے؟ بلاول عوام کو بتائیں سندھ کی اسپتالوں میں دوائیاں اور ایمبولنس کتے کے کاٹے کی ویکسین کیوں نہیں ملتی؟85 فیصد عوام گٹروں کا پانی کیوں پلایا جاتا ہے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








