زکوٰۃ اسلام کا چوتھا رکن ہے۔ زکوٰۃ کے لفظی معنی پاک کرنے کے ہیں، زکوٰۃ بھی ایک خاص مقررہ نصاب کی ادائیگی کے بعد صاحب نصاب مالدار مسلمان کے مال کو پاک کر دیتی ہے۔
زکوٰۃ کی فرضیت پر ایمان لانا اسلام میں داخل ہونے کیلئے ضروری ہے، مگر اس کی ادائیگی صرف اس پر مسلمان پر فرض ہے، جو مالدار ہو اور اس کا مال مقررہ مدت کے اندر زکوٰۃ کے نصاب کو پہنچتا ہو۔ زکات کا اہم مقصد سوسائٹی میں معاشی تفاوت کو ختم کرنا ہے۔
زکات کب دی جاتی ہے، یہ اہم سوال ہے، پاکستان میں عموماً ہر سال ماہ رمضان المبارک میں تمام صاحب نصاب اور صاحب حیثیت مسلمان اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں زکات کا نصاب کیا ہے؟
اسلامی شریعت کے علماء کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو زکات کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا اور صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی اور یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقدی یا سامانِ تجارت ہو، یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو تو ایسے شخص پر سال پورا ہونے پر قابلِ زکات مال کی ڈھائی فیصد زکات ادا کرنا لازم ہے۔
واضح ہوکہ زکات کا مدارصرف ساڑھے سات تولہ سونے پراس وقت ہے کہ جب کسی اور جنس میں سے کچھ نہ ہو، لیکن اگر سونے کے ساتھ ساتھ کچھ اور مالیت بھی ہےتوپھرزکات کی فرضیت کا مدار ساڑھے باون تولہ چاندی پرہوگا اور چاندی کے حساب سے زکات کی ادائیگی کی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








