غزہ کی تباہی، بمباری اور ملبے کے ڈھیر کے درمیان ایک غیر ملکی غیر مسلم اجنبی عورت نے وہ کر دکھایا جو بہت سے مقامی بھی نہ کر سکے۔
یوکرین سے تعلق رکھنے والی ماہرِ جلد و فزیوتھراپی ڈاکٹر اولینا یاتسینتیک (Olena Yatsentyk) نے اس وقت بھی غزہ چھوڑنے سے انکار کیا جب بیشتر غیر ملکی تنظیمیں علاقہ خالی کر چکی تھیں اور اسپتال ملبے میں تبدیل ہو چکے تھے۔
معروف صحافی و تجزیہ کار ضیاء چترالی کے مطابق ڈاکٹر اولینا اور ان کے شوہر، جو خود بھی ڈاکٹر ہیں، نے جنگ کے آغاز میں اپنے مریضوں کا ساتھ نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق ’’میں نے اپنے مریضوں سے وعدہ کیا تھا کہ جب تک ایک بھی زخمی باقی ہے، میں یہاں رہوں گی۔‘‘
جب ادویات ختم ہو گئیں تو ڈاکٹر اولینا نے گھریلو ذرائع سے مرہم تیار کیے، بجلی بند ہوئی تو فون کی روشنی میں علاج جاری رکھا۔ وہ روزانہ بمباری کے سائے میں زخمیوں تک پہنچتیں، بچوں کے چہروں سے مٹی دھوتیں اور امید کے الفاظ بانٹتیں۔
ایک فلسطینی صحافی نے ان کے بارے میں لکھا ’’غزہ میں سب کچھ ختم ہو چکا تھا، مگر اس اجنبی خاتون کے چہرے پر مسکراہٹ باقی تھی۔‘‘
جنگ بندی کے بعد جب ڈاکٹر اولینا اپنے تباہ شدہ کلینک واپس پہنچیں تو دروازے پر کسی نے لکھا تھا: ’’یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک غیر ملکی نے ہمیں سکھایا کہ محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔‘‘
ڈاکٹر اولینا آج بھی غزہ میں موجود ہیں اور زخمیوں کی خدمت میں مصروف ہیں، یہ یاد دلاتے ہوئے کہ انسانیت کا سب سے روشن چہرہ قربانی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








