ایران پر ممکنہ حملے کیلئے اسرائیل کون کونسے تباہ کن ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو العربیہ

ان دنوں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور تل ابیب کی طرف سے تہران کے خلاف ممکنہ حملے کےبارے میں بحث جاری ہے۔ پوری دنیا کی نظریں یکم اکتوبرکے اسرائیل پر کیےگئے ایرانی حملے کے ردعمل پر مرکوز ہیں۔

ایران پر اسرائیلی حملے کے حوالے سے کئی سوالات جواب طلب ہیں۔ان میں ایک سوال ایران پر اسرائیلی حملے میں استعمال ہونے والے ممکنہ ہتھیاروں کے بارے میں ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دہائیوں کے دوران اسرائیلی دفاعی انتظامیہ نے ایران پرممکنہ حملے کی تیاری کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔اس نے اس مقصد کے لیے خصوصی ہتھیار تیار کیے ہیں۔

اگرچہ ان میں سے کچھ صلاحیتیں اس وقت تک ظاہر نہیں کی گئیں جب تک کہ اُنہیں غیر ملکی فضائیہ کو فروخت نہیں کیا گیا تھا۔ “دی یروشلم پوسٹ” نے ایک رپورٹ میں ان تیاریوں کے بارے میں انکشاف کیا ہے۔

1800 کلومیٹر کے فاصلے سے حملے

اسرائیل نے اپنی امریکی امداد کا بڑا حصہ ایسے لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے مختص کیا ہے جو ہر سمت میں دو گھنٹے اڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس میں ایک جدید F-15I سکواڈرن سے لے کر چار F-16I سوفا سکواڈرن شامل ہیں۔

لاک ہیڈ مارٹن کمپنی نے خاص طور پر ان طیاروں کے لیے ہم آہنگ ایندھن کے ٹینک بھی تیار کیے ہیں، جنہیں ایرو ڈائنامکس یا ریڈار سے چھپ کر اپنی رینج تک پہنچنے کے لیے ڈیزاین کیا گیا ہے۔

غیر ملکی رپورٹس نےکہا کہ اسرائیل نے F-35 طیاروں کے لیے ڈیٹیک ایبل ایندھن کے ٹینک تیار کیے ہیں، جس سے وہ اسٹیلتھ صلاحیتوں کو برقرار رکھتے ہوئے ایران تک پہنچ سکتے ہیں۔

ان ٹینکوں کے بغیر اس کی رینج ناکافی ہے۔ پروں کے نیچے واقع معیاری ایندھن کے ٹینک اس کی زیادہ تر اسٹیلتھ صلاحیت کے لیے کافی ہیں۔

طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل

متوازی طور پر 2000ء کی دہائی کے آخر میں اسرائیلی دفاعی صنعتوں نے لڑاکا طیاروں سے داغے گئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے دو میزائلوں کا انکشاف کیا۔

اگرچہ ان کی درست رینج جیسی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں، لیکن ان کی رینج سیکڑوں کلومیٹر کے بارے میں بیان کی جاتی ہےجس سے ایرانی دفاعی حدود سے باہر حملوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ میزائل ہائپرسونک رفتار سے سفر کرتے ہیں جو دشمن کے الرٹ اوقات کو کم کر دیتا ہے۔ یہ رکاوٹ کی کوششوں کو پیچیدہ بناتی ہے، جس سے ہدف کو نشانہ بنانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ریمپیج میزائل

ریمپیج راکٹ اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز اور ایلبٹ سسٹمز کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا اور یہ ایلبٹ کے ایکسٹرا راکٹ پر مبنی ہے۔

میزائل کو ابتدائی طور پر زمین سے لانچ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا۔ پھر اسےفضائی لانچ کے لیے تبدیل کیا گیا۔

اس میں متعدد نیویگیشن سسٹمز موجود ہیں جو درست ہدف کے لیے فالتو پن فراہم کرتے ہیں۔

یہ میزائل 4.7 میٹر لمبا 30.6 سینٹی میٹر قطرپرمشتمل ہے اور 570 کلوگرام وزنی ہے۔ یہ 150 کلوگرام وار ہیڈ رکھتا ہے، جو اسے میزائل بیٹریوں، کمانڈ سینٹرز اور دیگر اہم اہداف کے خلاف موثر بناتا ہے۔

اسے اسرائیلی F-15، F-16 اور F-35 طیاروں سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ میزائل ٹیکنالوجی پر اس کا انحصار اسے سستا بناتا ہےجس کا تخمینہ چند لاکھ ڈالر فی یونٹ ہے۔

روکس میزائل

اس کے علاوہ اسرائیل کے پاس Rox میزائل ہے، جسے رافیل نے 2019ء میں نمائش کے لیے پیش کیا تھا۔ اس میں سپرسونک کروزنگ صلاحیتوں کے علاوہ سیٹلائٹ نیویگیشنھ آپٹیکل ٹارگٹنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔

یہ رافیل کے اینکر میزائل پر مبنی ہے، جو ایرانی شہاب میزائل کی رفتار اور چال میں جانچ کے مقاصد کے لیے نقل کرتا ہے۔

اسے چھوٹے F-16s اور ممکنہ طور پر F-35s سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی رینج 300 کلومیٹر ہے۔ یہ 500 کلوگرام وزنی وار ہیڈ لے جا سکتا ہے۔ یہ مضبوط یا زیر زمین ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اضافی پیشرفت

غیر ملکی ذرائع بتاتے ہیں کہ اسرائیل کے پاس زمین سے زمین مار کرنے والا میزائل سسٹم ہے جو روایتی اور جوہری وار ہیڈز سے لیس ہے۔ اسے “جیریکو” میزائل کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، ایلبٹ نے 500MPR نامی بنکر بسٹنگ بم تیار کیے ہیں جو کنکریٹ کے 4 میٹر تک تہہ میں گھسنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس کا تجربہ F-15I طیاروں کے ذریعے کیا گیا تھا۔ ان کی کم رینج دسیوں کلومیٹر تک ہے۔

’پاپ آئی ٹربو‘

ایک اور اسرائیلی ہتھیار ہے، جس کا علم صرف غیر ملکی رپورٹوں سے ہوتا ہے۔ اسے “پاپ آئی ٹربو” کروز میزائل ہے جسے رافیل نے تیار کیا ہے۔ اس کی رینج 1500 کلومیٹر ہے۔

اسے اسرائیلی بحریہ کی آبدوزوں سے لانچ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور یہ روایتی اور جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ رینج اسرائیلی آبدوزوں کو خلیج عرب میں داخل ہوئے بغیر بحیرہ احمر یا بحیرہ عرب سے ایران پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Related Posts