دو پاکستانی مذہبی رہنماؤں سعد رضوی اور محمد اشرف آصف جلالی کو ڈچ عدالت نے غیر حاضری میں پارٹی فار فریڈم کے رہنما گیرٹ وائلڈرز کو قتل کی دھمکیاں جاری کرنے پر سزا سنائی۔
گیرٹ وائلڈرز کی پارٹی نے گزشتہ سال ہالینڈ کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔
سماعت کے دوران نہ تو سعد رضوی اور نہ ہی اشرف جلالی موجود تھے، کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں ہی پاکستان میں ہیں، ایک ایسا ملک جس کا ہالینڈ کے ساتھ حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ اشرف جلالی کو دہشت گردی کے ارادے سے گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر اکسانے کی کوشش کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے رہنما سعد رضوی کو قتل پر اکسانے اور گیرٹ وائلڈرز کو دھمکیاں دینے پر چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے فیصلہ کیا کہ سعد رضوی کی سوشل میڈیا پوسٹ دہشت گردی کی حد پر پوری نہیں اترتی۔
گیرٹ وائلڈرز کے خلاف دھمکیوں کے حوالے سے ہالینڈ میں پاکستانیوں کی یہ پہلی سزا نہیں ہے۔ گزشتہ سال سابق کرکٹر خالد لطیف کو گیرٹ وائلڈرز کی موت پر انعام دینے پر 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی حالانکہ وہ بھی حراست سے باہر ہیں۔
2019 میں ایک اور پاکستانی شخص کو گیرٹ وائلڈرز پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے پر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








