بلقیس بانو ایک ہندوستانی مسلمان خاتون ہے جس کے ساتھ گجرات میں مذہبی فسادات کے دوران گینگ ریپ کیا گیا تھا جبکہ اس کے خاندان کے سات افراد کو ہندو مذہبی انتہا پسندوں نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔
بلقیس بانو، جو اب چالیس سال کی ہوچکی ہیں، 21 سال اور پانچ ماہ کی حاملہ تھیں جب 2002 میں جب مودی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، فسادات کے دوران ان کے ساتھ وحشیانہ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ بھارت میں ہونے والے بدترین مذہبی تشدد میں تقریباً 2,000 افراد مارے گئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔
2002 کے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے گیارہ افراد کو اس سال 15 اگست کو گجرات حکومت کے قائم کردہ پینل نے سزا میں معافی کی درخواست منظور کرنے کے بعد رہا کر دیا تھا۔
ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) راج کمار نے کہا کہ معافی کی درخواست پر غور کیا گیا کیونکہ مجرموں نے جیل میں 14 سال مکمل کر لیے تھے۔
گودھرا ٹرین جلانے کے واقعہ کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے دوران بلقیس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ اس وقت وہ 21 سال کی تھی، اور پانچ ماہ کی حاملہ تھی۔ اس کے خاندان کے سات افراد کو فسادیوں نے قتل کر دیا تھا۔
28 فروری 2002 کو بلقیس داہود ضلع کے اپنے گاؤں رادھیک پور سے فرار ہو گئی تھی، گودھرا سٹیشن پر گزشتہ روز کے واقعے کے بعد ریاست میں تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس میں ٹرین کو آگ لگا دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
بلقیس کے ساتھ اس کی بیٹی صالحہ، جو اس وقت ساڑھے تین سال کی تھی، اور اس کے خاندان کے دیگر 15 افراد بھی تھے۔ چند روز قبل عید الاضحی کے موقع پر ان کے گاؤں میں دوبارہ آتش زنی اور لوٹ مار کے خوف سے وہ فرار ہو گئے۔
3 مارچ 2002 کو یہ خاندان چھپرواڈ گاؤں پہنچا۔ چارج شیٹ کے مطابق، ان پرتلواروں اور لاٹھیوں سے لیس تقریباً 20-30 لوگوں نے حملہ کیا۔ حملہ آوروں میں 11 ملزمان بھی شامل تھے۔
بلقیس، اس کی ماں اور تین دیگر خواتین کے ساتھ عصمت دری کی گئی اور وحشیانہ حملہ کیا گیا۔ رادھیک پور گاؤں کے مسلمانوں کے 17 رکنی گروہ میں سے آٹھ لوگ مردہ پائے گئے، چھ لاپتہ ہیں۔ اس حملے میں صرف بلقیس، ایک شخص اور ایک تین سالہ بچہ بچ گئے۔
بلقیس حملے کے بعد کم از کم تین گھنٹے تک بے ہوش رہی۔ ہوش میں آنے کے بعد، اس نے ایک آدیواسی عورت سے کپڑے ادھار لیے، اور ایک ہوم گارڈ سے ملاقات کی جو اسے لمکھیڑا پولیس اسٹیشن لے گیا۔ اس نے ہیڈ کانسٹیبل سومابھائی گوری کو شکایت درج کرائی جس نے سی بی آئی کے مطابقجنسی زیادتی کے معاملے کو دبایا اور شکایت کا ایک مسخ شدہ ورژن درج کیا۔
بلقیس کو گودھرا ریلیف کیمپ پہنچنے کے بعد ہی طبی معائنے کے لیے سرکاری اسپتال لے جایا گیا۔ اس کا مقدمہ قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) اور سپریم کورٹ نے اٹھایا، جس نے سی بی آئی کو تحقیقات کا حکم دیا۔
سی بی آئی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پوسٹ مارٹم کا معائنہ ملزمان کی حفاظت کے لیے ناقص طریقے سے کیا گیا۔ سی بی آئی کے تفتیش کاروں نے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو نکالا، اور کہا کہ سات لاشوں میں سے کسی کی بھی کھوپڑی نہیں تھی۔
سی بی آئی کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد لاشوں کے سر کاٹ دیے گئے تھے، تاکہ لاشوں کی شناخت نہ ہوسکے۔
کیس کی سماعت کیسے ہوئی؟
بلقیس بانو کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد مقدمے کی سماعت گجرات سے باہر مہاراشٹر منتقل کر دی گئی۔ ممبئی کی عدالت میں چھ پولیس افسران اور ایک سرکاری ڈاکٹر سمیت 19 افراد کے خلاف الزامات عائد کیے گئے۔
جنوری 2008 میں، ایک خصوصی عدالت نے 11 ملزمان کو حاملہ خاتون کی عصمت دری، قتل، غیر قانونی اجتماع، اور تعزیرات ہند کی دیگر دفعات کے تحت الزامات کے تحت مجرم قرار دیا۔ ہیڈ کانسٹیبل کو ملزم کو بچانے کے لیے ”غلط ریکارڈ بنانے” کا مجرم قرار دیا گیا۔
عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر سات افراد کو بری کر دیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران ایک شخص کی موت ہو گئی۔ تمام 11 مجرموں کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
اس کے بعد کیا ہوا؟
مئی 2017 میں، بمبئی ہائی کورٹ نے اجتماعی عصمت دری کیس میں 11 لوگوں کی سزا اور عمر قید کو برقرار رکھا، اور پولیس اہلکاروں اور ڈاکٹروں سمیت سات لوگوں کو بری کردیا۔
اپریل 2019 میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو بلقیس کو دو ہفتوں کے اندر 50 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا۔ اس نے 5 لاکھ روپے کا معاوضہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، اور سپریم کورٹ کے سامنے ایک عرضی میں ریاستی حکومت سے مثالی معاوضے کی مانگ کی تھی۔
بلقیس نے مجرموں کی رہائی کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی، لیکن بھارتی سپریم کورٹ نے ہفتے کے روز بلقیس بانو کی نظرثانی کی درخواست خارج کر دی، جو عدالت کے مئی 2022 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








