مفتی محمد سلمان اظہری ایک مشہور بھارتی مذہبی عالم، واعظ، امام اور یوٹیوبر ہیں، 40 سالہ سلمان اظہری کو بھارت میں انسدادِ سماج دشمن سرگرمیوں کے قانون کے تحت آٹھ ماہ تک حراست میں رکھا گیا لیکن سپریم کورٹ نے ہفتہ کے روز ان کی رہائی کا حکم دیا۔
مفتی محمد سلمان اظہری کو 22 فروری 2024 کو وڈودرا سینٹرل جیل میں نظربند کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جوناگڑھ میں ایک تقریب کے دوران اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ 4 فروری کو گجرات پولیس کے خصوصی دستے نے انہیں ممبئی سے گرفتار کیا تھا۔
ہفتہ کے روز سپریم کورٹ نے پیسا قانون کے تحت ان کی نظربندی ختم کر دی اور انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ ان کے بھائی، مفتی زبیر مصباحی نے تصدیق کی کہ سلمان اظہری اپنے آبائی شہرکرنا واپس پہنچ گئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے پولیس پر سخت تنقید کرتے ہوئے مفتی محمد سلمان اظہری کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس پرسنا بی ورالے نے قرار دیا کہ مفتی محمد سلمان اظہری کی تقریروں سے عوامی امن و امان میں کوئی خلل نہیں پڑا۔
عدالت نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا: ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ نظربندی کا حکم برقرار نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ان کی تقریروں نے عوامی نظم و نسق کو نقصان پہنچایا ہو۔
مفتی محمد سلمان اظہری نے مصر کی جامعہ الازہر سے تعلیم حاصل کی۔ وہ جامعہ ریاض الجنہ اور الامان ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے بانی ہیں۔
ابتدائی طور پر وہ ممبئی کی پانکے شاہ بابا درگاہ کے امام تھے لیکن وقت کے ساتھ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور انہیں بھارت کے مختلف علاقوں میں مسلم برادری کی دعوت پر مدعو کیا جانے لگا۔
مفتی محمد سلمان اظہری نے سوشل میڈیا کے ذریعے خاص طور پر نوجوانوں میں بڑا مقام حاصل کیا۔ ان کی تقاریر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں، جس سے ان کی آن لائن موجودگی مزید مستحکم ہوئی۔
مفتی محمد سلمان اظہری کے ایکس پر 92000 سے زائد فالوورز ہیں جبکہ انسٹاگرام پر ان کے 7.83 لاکھ فالوورز ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








