محمد زبیر کون ہیں اور انھیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

محمد زبیر کون ہیں اور انھیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟
محمد زبیر کون ہیں اور انھیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟

پیر کی صبح کو دہلی پولیس نے محمد زبیر کو اُن کے گھر سے گرفتار کرلیا۔

بھارتی پولیس کے سائبر یونٹ نے نوجوان صحافی کو گرفتارکرلیا لیکن سوال اب بھی برقرار ہے کہ گرفتار کرنے کے پیچھے کیا وجہ ہے؟

محمد زبیر

محمد زبیر حقائق کی جانچ کرنے والی ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی ہیں۔ انہوں نے 2017 میں سابق سافٹ ویئر انجینئر پرتک سنہا کے ساتھ نیوز ویب سائٹ کی بنیاد رکھی۔ اُن کی نیوز ویب سائٹ کا مقصد جعلی خبروں کے حقائق سے پردہ اٹھانا ہے۔

ایف آئی آر

محمد زبیر کو 2018 کی ایک ٹوئٹ پر گرفتار کیا گیا ہے، اُن کیخلاف ایف آئی آر دہلی پولیس کے سب انسپکٹر ارون کمار نے ایک شخص کی شکایت پر درج کی، جس نے یہ شکایت کی کہ محمد زبیر نے اُن کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی۔

انھیں 2018 کی ایک ٹویٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔ محمد زبیر کیخلاف ایف آئی آر دہلی پولیس کے سب انسپکٹر ارون کمار نے ایک شخص کی شکایت کی بنیاد پر درج کی، جس نے دہلی پولیس کو سوشل میڈیا پر ٹیگ کیا تھا۔ اپنی شکایت میں اُس نے الزام لگایا کہ زبیر نے اُن کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق محمد زبیر کی ٹویٹ نے لوگوں میں اشتعال انگیزی اور نفرت کے جذبات کو ابھارا ہے۔

ٹویٹ

محمد زبیر نے 2018 میں ایک ٹویٹ کیا تھا، جس میں انہوں نے لیجنڈری فلمساز ہریشکیش مکھرجی کی 1983 کی کلاسک فلم کسی سے نہ کہنا کا ایک کلپ شیئر کیا تھا۔ ٹویٹ میں جو تصویر پوسٹ کی گئی تھی، اُس میں ایک ہوٹل کا بورڈ دکھایا گیا تھا، جس پر ہندی زبان میں ہنومان لکھا ہوا تھا۔

زبیر نے اس ٹویٹ میں واضح کیا کہ پہلے اِس ہوٹل کو ہنی مون کہا جاتا تھا مگر بعد میں اِس کا نام تبدیل کرکے ہنومان کردیا گیا۔

بڑے پیمانے پر غم و غصہ

صحافی محمد زبیر کی گرفتاری نے بڑے پیمانے پر غم و غصے کو بیدار کیا، جس کی اطلاع وزارت داخلہ کو دی گئی ہے۔ کیونکہ محمد زبیر نے کچھ روز قبل بی جے پی رہنما کے گستاخانہ بیان پر اشتعال انگیز پیغام دیا تھا اور اُس کے چند روز بعد ہی انھیں گرفتار کرلیا گیا، جس نے حکومت کیلئے کئی مشکلات کھڑی کردی ہیں۔

اظہار رائے کی آزادی

صحافی محمد زبیر کی گرفتاری نے بھارت میں آزادی صحافت کیلئے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے حکومت فرقہ وارانہ مسائل پر رپورٹنگ کرنے والوں کو گرفتار کرکے یہ کہنا چاہتی ہے کہ بھارت میں حقائق سے پردہ اٹھانے کی آزادی حاصل نہیں ہے۔

پریس کلب

بھارتی پریس کلب نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی محمد زبیر کو ہراساں کرنا بند کیا جائے اور صحافیوں کے تحفظ کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔

ہندو مسلم تصادم

یہاں پر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ صحافی محمد زبیر کی گرفتاری سے نورپور شرما کیخلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو جواب دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ مسلمانوں نے بی جے پی رہنما کے گستاخانہ بیان پر نہ صرف احتجاجی مظاہرے کیے بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کے احتجاج نے عرب ممالک کے ہندوستان کے بائیکاٹ کے ساتھ سفارتی تنازع کو بڑھا دیا۔

بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت

ہندوستانی ناقدین نے بھی نور پور شرما کے گستاخانہ بیان پر شدید تنقید کی، اُن کا کہنا تھا کہ بھارت میں ایک خاص پارٹی فرقہ وارانیت کو بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔

یہاں تک کہ اس معاملے پر ہنوستانی نیوز چینلز پر بڑے بحث و مباحثے کیے گئے اور سوشل میڈیا پر بھی اِس کی مذمت کی گئی۔

Related Posts