اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے پر قتل کیا جانیوالا 13 سالہ مرتضیٰ قریشی کون تھا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Who is Murtaza Qureshi over killed in Saudi Arabia?

ریاض: سعودی حکومت نے 13 سال کی عمر میں اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے پر گرفتار کئے جانیوالے مرتضیٰ قریشی کا سر بھی قلم کردیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی نے بتایا کہ سعودی عرب نے گزشتہ 2روز کے دوران 81 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جن میں 7یمنی اور ایک شامی شہری بھی شامل ہے۔ان افراد کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں سے وفاداری اور منحرف عقائد رکھنے کے الزام میں سزائے موت دی گئی ہے، مرنے والوں میں مرتضیٰ قریشی بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

کرناٹک، بھارتی عدالت نے حجاب پر پابندی کے حق میں فیصلہ سنا دیا

24اکتوبر2000 کو پیدا ہونیوالے مرتضیٰ قریشی کا تعلق سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ برادری سے تھا، سعودی حکومت نے ایک دہشت گرد گروپ میں شمولیت اور نقص امن کا الزام لگاکرستمبر 2014 میں مرتضٰی قریشی کو گرفتار کیا جب وہ محض 13 سال کا تھا۔

سی این این کی رپورٹس کے مطابق مرتضیٰ قریشی 10 سال کی عمر میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ ملکر حکومتی ظلم و ستم پر آواز اٹھارہا تھا اور اپنے حقوق کیلئے بچوں کے ساتھ سائیکل ریس میں حصہ لیکر اپنے مسائل کو اجاگر کرتا تھا۔

مزید پڑھیں:اسپتال میں دھماکہ، حاملہ خاتون اور پیٹ میں بچہ بھی لقمہ اجل، تصاویر نے تہلکہ مچادیا

مرتضیٰ قریشی کو سائیکل احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے منظر عام پر آنے کے تین سال بعد، 13 سال کی عمر میں سعودی حکام نے گرفتار کر لیا۔ دی گارڈین کے مطابق مرتضیٰ قریشی کو وقتاً فوقتاً قید تنہائی میں رکھا جاتا رہا۔

سعودی عرب میں ہفتہ کے روزایک ہی دن میں مرتضیٰ قریشی سمیت  81 افراد کو سزائے موت دے دی گئی۔ یہ تعداد گزشتہ پورے سال میں دی جانے والی موت کی سزاؤں سے زیادہ ہے۔مرتضیٰ قریشی کا جرم اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کے علاوہ کیا تھا؟ یہ واضح نہیں ہوسکا۔

Related Posts