ایران میں برسراقتدار آنے کا خواہشمند، ناکام رجیم چینج آپریشن کا امریکی مہرہ شہزادہ رضا پہلوی کون ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو فرانسیسی میڈیا

مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے دوران عالمی میڈیا پر شہزادہ رضا پہلوی کا نام باربار گونجتا رہا۔

مختلف مغربی تھنک ٹینکس اور میڈیا رپورٹس میں عندیہ دیا گیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں اپنے ممکنہ رجیم چینج آپریشن میں شہزادہ رضا پہلوی کو متبادل سیاسی چہرے کے طور پر سامنے لا رہے ہیں، تاہم جنگی محاذ پر ایران کے مؤثر ردعمل اور علاقائی حمایت کے باعث یہ منصوبہ فی الوقت پس منظر میں جا چکا ہے۔

آئیے جانتے ہیں شہزادہ رضا پہلوی کون ہیں؟

شہزادہ رضا پہلوی کون ہیں؟

شہزادہ رضا پہلوی 31 اکتوبر 1960 کو پیدا ہوئے۔ وہ انقلاب سے پہلے ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بڑے بیٹے اور ممکنہ جانشین تھے۔

1979 کے انقلاب کے بعد ان کے خاندان کو جلاوطن ہونا پڑا اور رضا پہلوی نے امریکہ میں سکونت اختیار کر لی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، مغربی طرز زندگی کے حامی اور ایران میں بادشاہت کی بحالی کے خواہشمند رہنما سمجھے جاتے ہیں۔

جلاوطنی اور سیاسی سرگرمیاں

رضا پہلوی گزشتہ چالیس برسوں سے جلاوطنی میں رہتے ہوئے ایران میں انسانی حقوق، جمہوریت اور سیکولرزم کی حمایت میں بیانات دیتے آئے ہیں۔

انہوں نے مغربی اداروں، بالخصوص امریکی پالیسی ساز اداروں سے قربت رکھی اور ایران میں اسلامی حکومت کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ وہ ایران میں عوامی تحریکوں اور مظاہروں کی بھی حمایت کرتے نظر آئے۔

حالیہ جنگ اور اقتدار میں واپسی کی چہ میگوئیاں

اسرائیل اور امریکا کی ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران مغربی ذرائع ابلاغ میں خبریں گردش کرنے لگیں کہ واشنگٹن شہزادہ رضا پہلوی کو ایک “جمہوری متبادل” کے طور پر ایران میں متعارف کروانے پر غور کر رہا ہے۔

ان اطلاعات کو اس وقت تقویت ملی جب شہزادہ رضا بھی سوشل میڈیا پر متحرک نظر آئے۔ انہوں نے اسرائیلی کے حملے کے پہلے ہی دن اسرائیلی کارروائی کا خیرمقدم کیا اور ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حکومت سے لاتعلقی اختیار کریں اور جمہوریت کو سپورٹ کریں۔

موجودہ صورتحال

اس وقت جبکہ ایران نے اسرائیلی حملوں کے خلاف مؤثر دفاع کیا اور اندرونی سطح پر بھی مزاحمت دکھائی، رضا پہلوی سے متعلق تمام قیاس آرائیاں خاموش ہو گئی ہیں۔ نہ تو امریکی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا اور نہ ہی اسرائیل نے کسی ایسے سیاسی متبادل کی حمایت کا کھل کر اعلان کیا۔

دوسری طرف یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ رجیم چینج آپریشن میں ناکامی کے بعد شہزادہ رضا پہلوی نے انسٹاگرام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انفالو کر دیا ہے۔

Related Posts