خیبر پختون خوا کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے، جہاں ذرائع کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف نے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جگہ نئے چہرے کو لانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
پارٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کیلئے علی امین گنڈاپور کی جگہ ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے متحرک رہنما سہیل آفریدی کا نام سب سے نمایاں ہے۔
سہیل آفریدی کون ہیں؟
سہیل آفریدی کا شمار تحریکِ انصاف کے ان پرانے کارکنوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ISF) سے کیا۔ وہ طویل عرصے تک کے پی میں آئی ایس ایف کے صدر کے طور پر سرگرم رہے اور پارٹی تنظیم میں نوجوانوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
2024 کے عام انتخابات میں سہیل آفریدی پی کے-70 ضلع خیبر سے پہلی بار کامیابی حاصل کر کے صوبائی اسمبلی پہنچے۔ اپنی سیاسی سمجھ بوجھ اور مضبوط تنظیمی پس منظر کے باعث وہ جلد ہی وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ٹیم میں شامل کیے گئے۔
ابتدا میں انہوں نے وزیرِ اعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے کمیونی کیشن اینڈ ورکس (C&W) کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور شفاف عملدرآمد کے حوالے سے ان کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ بعد ازاں کابینہ میں رد و بدل کے دوران سہیل آفریدی کو وزیرِ برائے ہائر ایجوکیشن کا قلمدان دیا گیا، جہاں انہوں نے صوبے کی جامعات کے انتظامی ڈھانچے میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے۔
ذرائع کے مطابق تحریکِ انصاف کی اعلیٰ قیادت صوبے میں “نئی توانائی” اور “تنظیمی استحکام” لانے کے لیے قیادت کی تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ سہیل آفریدی کو ایک غیر متنازع، فعال اور نوجوان دوست چہرہ سمجھا جاتا ہے جو پارٹی کی نئی حکمتِ عملی کے عین مطابق ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق اگر یہ فیصلہ حتمی صورت اختیار کر لیتا ہے تو سہیل آفریدی خیبر پختون خوا کے پانچویں کم عمر وزیرِ اعلیٰ ہوں گے۔ پارٹی کے اندر ان کی نامزدگی کو “نئی قیادت کے عروج” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بعض مبصرین اسے عمران خان کے “نوجوان قیادت پر اعتماد” کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








