امریکا: نیویارک سٹی کے میئر کا انتخابی عمل آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے، جہاں ابتدائی ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے اور تقریباً پانچ ملین رجسٹرڈ ووٹرز اب 4 نومبر کو اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے تاکہ شہر کے اگلے میئر کا انتخاب کیا جا سکے۔
نیویارک سٹی بورڈ آف الیکشنز کے مطابق گزشتہ نو دنوں کے دوران 7 لاکھ 34 ہزار 317 ووٹ ڈالے گئے، جو 2021 کے میئر انتخابات کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہیں۔
ابتدائی ووٹنگ میں اس غیر معمولی اضافہ نے انتخابی ماحول کو مزید پرجوش بنا دیا ہے اور تمام بڑی جماعتیں اپنے حامیوں کو متحرک کرنے میں مصروف ہیں۔
انتخابی ماہرین کے مطابق ووٹنگ کے اس بڑھتے رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی دلچسپی اس بار ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نیویارک سٹی میں قیادت کی تبدیلی کو ملک کی مجموعی سیاسی سمت کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں سابق گورنر اینڈریو کومو کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بائیں بازو کے ڈیموکریٹ امیدوار ظہران ممدانی کو ووٹ نہ دیں۔
یہ بیان میئر کے انتخاب سے ایک دن قبل سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ اگر ممدانی میئر منتخب ہوئے تو وہ نیویارک کے لیے وفاقی فنڈز بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کریں گے، کیونکہ ان کے بقول کمیونسٹ کے زیرِ قیادت شہر کو پیسے دینا رقم ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب سروے کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار ظہران ممدانی آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے والے کومو پر سبقت رکھتے ہیں جبکہ ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا تیسرے نمبر پر ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے ہم جماعت سلیوا کی حمایت سے بھی گریز کیا اور کہا کہ سلیوا کو ووٹ دینا دراصل ممدانی کے حق میں ووٹ دینے کے برابر ہے۔
ظہران ممدانی کون ہیں؟
ظہران ممدانی 33 سالہ مسلمان اور یوگنڈا نژاد امریکی سیاستدان ہیں، جو نیویارک ریاست کی اسمبلی کے رکن ہیں۔ انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری میں سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دے کر تاریخ رقم کی اور وہ نیویارک سٹی کے میئر کے لیے پارٹی کے پہلے مسلم امیدوار بن گئے۔
ظہران ممدانی کا تعلق متنوع پس منظر رکھنے والے ایک علمی و فنکار خاندان سے ہے۔ ان کی والدہ مشہور فلم ساز میرا نائر ہیں جبکہ والد پروفیسر محمود ممدانی کولمبیا یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
ظہران ممدانی نے برونکس ہائی اسکول آف سائنس سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں باؤڈوئن کالج سے افریقن اسٹڈیز میں ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے سیاست میں آنے سے قبل کم آمدنی والے شہریوں کے لیے مکانات سے متعلق قانونی مشاورت کا کام کیا۔
اپنی انتخابی مہم میں انہوں نے نیویارک کو زیادہ قابلِ رہائش اور سستا شہر بنانے کے لیے کئی اصلاحی منصوبے پیش کیے ہیں جن میں کرایہ منجمد کرنے کی پالیسی، مفت بس سروس، سستی بلدیاتی گروسری مارکیٹس اور تمام بچوں کے لیے مفت نگہداشت کی سہولت شامل ہے۔
ممدانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اردو اور ہسپانوی زبان میں پیغامات جاری کیے، جن میں انہوں نے نیویارک کی مختلف برادریوں کو اپنی مہم کا حصہ بنایا۔
انہوں نے اپنی مسلم شناخت کو بھی واضح طور پر اجاگر کیا اور کہا کہ بطور مسلمان عوامی میدان میں کھڑا ہونا خود ایک قربانی ہے، لیکن یہی ہمارا عزم ہے کہ ہم اپنی شناخت کے ساتھ عوامی خدمت کریں۔
تنازعات اور تنقید
ظہران ممدانی کے ناقدین ان کے نظریات کو حد سے زیادہ بائیں بازو کا قرار دیتے ہیں۔ دی نیویارک ٹائمز کے اداریے میں ان کے منشور کو عملی سیاست کے تقاضوں سے متصادم کہا گیا۔
سابق گورنر کومو اور ان کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ ظہران ممدانی کے پاس انتظامی تجربے کی کمی ہے اور وہ نیویارک جیسے بڑے شہر کو سنبھالنے کے لیے موزوں نہیں۔
ظہران ممدانی کو اسرائیل فلسطین تنازع پر اپنے مؤقف کی وجہ سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ وہ اسرائیل کو نسل پرستانہ ریاست اور غزہ میں نسل کشی کرنے والا ملک قرار دے چکے ہیں۔
انہوں نے ایک بل پیش کیا ہے جس کے تحت ان امریکی خیراتی اداروں کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔
اسرائیل نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کی حمایت نہیں کر سکتے جو مذہب یا نسل کی بنیاد پر شہریوں کے حقوق میں فرق روا رکھتا ہو۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیل کے بطور ریاست وجود کے حق کو تسلیم کرتے ہیں اور تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








