خاتون پولیس اہلکار کو گولی کس نے ماری؟ قاتل ایک سال بعد بے نقاب! ویڈیو وائرل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

امریکی شہر شکاگو میں پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں جہاں ایک پولیس افسر نے مبینہ طور پر اپنی ہی خاتون ساتھی اہلکار کو گولی مارنے کے بعد فوری مدد فراہم کرنے میں تاخیر کی۔

تازہ جاری ہونے والی باڈی کیمرہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کے بعد تقریباً دو منٹ تک زخمی افسر کو مدد نہیں دی گئی حالانکہ وہ شدید زخمی حالت میں زمین پر پڑی تھیں۔ یہ ویڈیو واقعے سے پہلے اور بعد کے لمحات کو واضح کرتی ہے تاہم اس میں حساس مناظر شامل ہیں۔

یہ واقعہ جون 2025 میں پیش آیا جب شکاگو پولیس کے افسر کارلوس اے بیکر اور ان کی ساتھی کرسٹل رویرا ایک مشتبہ شخص کا تعاقب کر رہے تھے۔ ویڈیو کے مطابق دونوں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کے قریب ایک شخص کے پیچھے گئے جس کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ اسلحہ لیے ہوئے ہے۔ جیسے ہی ملزم عمارت کے اندر داخل ہوا دونوں افسران بھی اس کے پیچھے اندر گئے اور سیڑھیوں کے ذریعے اوپر کی منزلوں کی جانب بڑھنے لگے۔

اسی دوران، ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ جب ملزم دوسری منزل کے ایک فلیٹ میں داخل ہوا تو بیکر نے اچانک مڑ کر فائر کیا جس کی زد میں ان کی اپنی ساتھی کرسٹل رویرا آ گئیں جو ان کے پیچھے آ رہی تھیں۔ فائرنگ کے فوراً بعد بیکر نے وائرلیس پر ہنگامی کال دی اور بتایا کہ پولیس پر فائرنگ ہوئی ہے جبکہ وہ اوپر کی جانب بڑھتے رہے۔

فائرنگ کے کچھ دیر بعد بیکر نے آواز لگا کر اپنی ساتھی کی خیریت دریافت کی مگر کوئی جواب نہ ملا۔ انہوں نے ایمبولینس طلب کی اور بار بار کہا کہ وہ اپنی ساتھی تک نہیں پہنچ پا رہے۔ کچھ لمحوں بعد وہ سیڑھیوں سے نیچے آئے، مگر پھر رک کر واپس اوپر چلے گئے اور خصوصی فورس طلب کرنے کی درخواست کی۔

تقریباً دو منٹ گزرنے کے بعد بیکر دوبارہ نیچے آئے اور زخمی رویرا تک پہنچے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ انہیں گھسیٹتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف لے جا رہے ہیں جبکہ زمین پر خون پھیلا ہوا ہے۔ اس دوران وہ بار بار انہیں آواز دیتے رہے اور حوصلہ دینے کی کوشش کرتے رہے۔

کچھ دیر بعد دیگر پولیس اہلکار موقع پر پہنچے تو بیکر نے انہیں فوری طور پر رویرا کو گاڑی میں ڈال کر اسپتال لے جانے کا کہا۔ ویڈیو یہیں ختم ہو جاتی ہے جبکہ بعد میں معلوم ہوا کہ رویرا جانبر نہ ہو سکیں۔

اس واقعے کے بعد کارلوس بیکر کو پولیس اختیارات سے محروم کر دیا گیا ہے جبکہ مقتولہ کے اہل خانہ نے ان کے خلاف اور شکاگو پولیس کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ خاندان کا موقف ہے کہ یہ واقعہ ذاتی تعلقات کے خاتمے کے بعد پیش آیا تاہم بیکر کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ فائرنگ غیر ارادی تھی اور ان کے مؤکل نے اپنی تربیت کے مطابق مدد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ کیس کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

Related Posts