بھارتی اداکارہ نندنی سے کس نے چھینا جینے کا حق؟ خاندانی دباؤ یا شوبز کی سنگین حقیقت! جانیں اصل حقائق

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

بنگلورو میں کنڑا اور تمل ٹیلی ویژن انڈسٹری کی معروف اداکارہ نندنی سی ایم کے انتقال کی خبر نے شوبز انڈسٹری اور مداحوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ 26 سالہ اداکارہ کی لاش 29 دسمبر 2025 کو بنگلورو کے کینگیری علاقے میں واقع ان کی پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔

پولیس کے مطابق موقع سے ایک تحریری نوٹ ملا ہے جس میں نندنی نے ذاتی اور خاندانی دباؤ کا ذکر کیا ہے۔ نوٹ میں والدین کی جانب سے شادی کے لیے دباؤ، ذہنی دباؤ اور دیگر ذاتی مسائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اسے غیر فطری موت کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

نندنی سی ایم کا تعلق کرناٹک کے ضلع وجئے نگر کے علاقے کوٹور سے تھا۔ انہوں نے بیلاری میں پری یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بنگلورو کا رخ کیا جہاں ابتدا میں انجینئرنگ میں داخلہ لیا مگر بعد ازاں اداکاری کے شوق کی خاطر یہ شعبہ چھوڑ دیا۔ انہوں نے باقاعدہ اداکاری کی تربیت حاصل کی اور 2019 میں پروفیشنل کیریئر کا آغاز کیا۔

نندنی کنڑا ٹی وی ڈراموں جیوا ہوواگیڈے، سنگھرشا، مدھوماگلو، نیناڈے نا سمیت کئی سیریلز میں معاون کرداروں کے باعث پہچانی گئیں جبکہ تامل سیریل گوری میں مرکزی کردار ادا کر کے انہیں خاص شہرت حاصل ہوئی جہاں انہوں نے دوہرے کردار میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

پولیس کے مطابق نندنی کی والدہ نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کسی فرد پر براہِ راست الزام عائد نہیں کیا تاہم خاندانی معاملات اور ذہنی دباؤ کو واقعے کا پس منظر قرار دیا ہے۔ نندنی کے والد کا انتقال 2021 میں ہو گیا تھا جس کے بعد انہیں سرکاری ملازمت کی پیشکش بھی ہوئی تھی تاہم انہوں نے اداکاری کے شعبے کو ترجیح دی جس پر خاندانی اختلافات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

نندنی سی ایم کے انتقال پر کنڑا اور تامل ٹی وی انڈسٹری میں سوگ کی فضا ہے۔ متعدد فنکاروں نے سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نندنی کو ایک باصلاحیت اور محنتی اداکارہ قرار دیا ہے۔ کئی ساتھی فنکار آخری رسومات میں شرکت کے لیے بنگلورو پہنچے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر شوبز انڈسٹری میں ذہنی دباؤ، خاندانی توقعات اور کیریئر سے جڑے مسائل پر سنجیدہ گفتگو کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں نوجوان فنکاروں کو بسا اوقات خاموشی کے ساتھ شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Related Posts