پیرس اولمپکس، جیولن تھرو کا فائنل آج، ارشد ندیم طلائی طمغہ کیوں نہیں جیت سکتے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ارشد ندیم
(فوٹو: پی ٹی وی)

پیرس اولمپکس میں جیولن تھرو کا فائنل آج ہوگا، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ارشد ندیم طلائی طمغہ لانے میں تکنیکی طور پر کامیاب نہیں ہوسکتے۔

تفصیلات کے مطابق پیرس اولمپکس میں جیولن تھرو کا فائنل آج رات کو ہوگا۔ پاکستان کے ارشد ندیم سمیت 12 ایتھلیٹس طلائی تمغے کیلئے تین تین بار جیولن پھینکیں گے۔ تین باریوں کے بعد بہترین تھرو کرنے والے 8 ایتھلیٹس کو مزید 3 باریاں دی جائیں گی۔

مجموعی طور پر 6 باریوں میں سے بہترین جیولن تھرو کو حتمی تھرو قرار دیا جائے گا۔ اسٹارٹ لسٹ میں پاکستان کے ارشد ندیم چوتھے مقام پر ہیں۔ ارشد ندیم 86اعشاریہ 59 میٹر کی سیزن بیسٹ تھرو کرنے والے ایتھلیٹ کے طور پر میدان میں اتریں گے تاہم تمغہ جیتنا مشکل ہوگا۔

تمغہ جیتنا مشکل کیوں؟

پوری قوم کی امیدیں ارشد ندیم سے جڑی ہوئی ہیں، تاہم تمغہ جیتنا تکنیکی اعتبار سے مشکل بلکہ ایک حد تک ناممکن اس لیے ہے کیونکہ فائنل میں شامل 4 کھلاڑی ایسے ہیں جن کی سیزن بیسٹ تھرو ارشد ندیم سے بہتر ہے جن میں بھارتی کھلاڑی نیرج چوپڑا بھی شامل ہے۔

نیرج چوپڑا کی سیزن بیسٹ تھرو 89اعشاریہ 34 میٹر، جیکب ویڈلیخ کی 88اعشاریہ 65 میٹر، گرینیڈا کے اینڈرسن پیترز کی 88اعشاریہ 63 میٹر، جرمنی کے جولین ویبر کی 88اعشاریہ 37 میٹر ہے۔فائنل میں شامل 12 کھلاڑیوں میں سے 5 کھلاڑی 90 میٹر سے طویل تھرو پھینک سکتے ہیں۔

خود ارشد ندیم کی پرسنل بیسٹ تھرو 90اعشاریہ 18 میٹر ہے، یعنی ارشد ندیم اپنا بیسٹ دے کر بھی 90 اعشاریہ 18 میٹر یا بہت کوشش کرکے 91 میٹر تک جاسکتے ہیں تاہم گرینیڈا کے اینڈرسن پیٹرز 93اعشاریہ 07، کینیا کے جولیس یگو 92اعشاریہ 72 میٹر اور جمہوریہ چیک کے جیکب ویڈلخ 90اعشاریہ 88میٹر کی تھرو کرچکے ہیں۔

یوں ارشد ندیم پاکستان کیلے طلائی تمغہ لائیں، یہ تکنیکی اعتبار سے بے حد مشکل یا کسی حد تک ناممکن کہا جاسکتا ہے، جب تک کہ ارشد ندیم کو بھی وہ تمام سہولیات نہ دے دی جائیں جو ان تمام ممالک کے جیولن تھروورز کو میسر ہیں۔ تمغہ جیتنے کیلئے ضروری ہے کہ ارشد ندیم تمام تھروورز سے بہتر تھرو پھینک سکیں۔

Related Posts