اکرام اللہ محسود، جو ٹی ٹی پی کا کمانڈر ہے، بغیر کسی پیشگی اجازت و اطلاع اور بغیر چیکنگ کے پاکستان سے ملحقہ افغان صوبہ خوست میں طالبان کے سرکاری سکیورٹی ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوتا ہے۔ جب وہ دفتر میں داخل ہوتا ہے تو طالبان پولیس اور انٹیلی جنس اہلکار مسکراتے ہوئے کہتے ہیں: “بے نظیر بھٹو کا قاتل آ گیا۔” اور اس کا مسکراہٹوں کے ساتھ استقبال کرتے ہیں۔
یہ انکشاف افغانستان انٹرنیشنل نامی آزاد افغان صحافتی ادارے نے اپنے حالیہ تہلکہ خیز تحقیقی رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکرام اللہ محسود کی گاڑی کبھی ایندھن بھرنے کیلئے نہیں رُکتی کیونکہ اس کی کبھی ضرورت نہیں پڑتی، اس لیے کہ طالبان حکام ہمیشہ اس کا ٹینک بھرا رکھتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ افغان طالبان کے نزدیک ٹی ٹی پی کے اس خارجی کمانڈر کی کس قدر اہمیت ہے۔
بے نظیر بھٹو کا قاتل اکرام اللہ محسود کون ہے؟
افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 27 دسمبر 2007 کو ٹی ٹی پی کے اس وقت کے سربراہ بیت اللہ محسود نے راولپنڈی کے باغ لیاقت میں دو خودکش حملہ آور بھیجے، جہاں پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو ایک بڑے جلسے سے خطاب کرنے والی تھیں۔ ان دو حملہ آوروں میں سے ایک اکرام اللہ محسود تھا۔
دوسرا حملہ آور بلال تھا، جو دھوپ کا چشمہ لگائے ہوئے تھا، منصوبہ بندی کے مطابق بلال بے نظیر بھٹو کی گاڑی کے بائیں جانب سے قریب آیا۔ اس نے اپنی پستول نکالی، تین گولیاں چلائیں اور پھر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ چند سیکنڈوں میں بے نظیر بھٹو کا سفید دوپٹہ خون میں رنگ گیا اور ان کا جسم گاڑی پر گر گیا۔ واقعے کے بعد اکرام اللہ محسود نے اپنی خودکش جیکٹ اور پستول قریبی مسجد میں پھینک دی اور موقع سے فرار ہو گیا۔
2014 میں، شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے بعد اکرام اللہ محسود اور شہریار محسود، جو حکیم اللہ محسود کے زیر کمان ایک ہلاک شدہ کمانڈر تھے، افغانستان چلے گئے۔ اس وقت اکرام اللہ محسود نے بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی۔
طویل عرصہ چھپا رہنے کے بعد بے نظیر بھٹو کا قاتل منظر عام پر
2014 سے اب تک، اکرام اللہ ننگرہار، کنر، خوست اور پکتیکا کے صوبوں میں خوف اور چھپ کر آمد و رفت کر رہا تھا اور پاکستانی طالبان کے کمانڈروں کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ لیکن طالبان کی 2021 میں حکومت سنبھالنے کے بعد وہ اب چھپتا نہیں۔ اب وہ کھلے عام تسلیم کرتا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں اس کا کردار تھا اور یہ کہ وہ لیاقت باغ انہیں مارنے کے لیے گیا تھا۔
ٹی ٹی پی کے کمانڈر افغانستان میں کہاں رہتے ہیں؟
افغانستان انٹرنیشنل کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر پاکستانی طالبان کے سینئر کمانڈر جن میں مفتی نور ولی محسود، حافظ گل بہادر، عظمت اللہ محسود، اختر محمد خلیل اور مفتی صادق نور داوڑ شامل ہیں کابل اور کنڑ، خوست، پکتیا، پکتیکا اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کے درمیان آمد و رفت کرتے رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی سرحد سے ملحقہ صوبہ خوست میں زدران قبیلے کا ایک گاؤں سپیرہ غبرگی نام سے ہے، اس سے آگے پکتیکا کے گِیان ضلع تک، مداخیل وزیر علاقے تک پھیلا ہوا ہے، جسے سرحدی باڑ نے وزیرستان سے الگ کر رکھا ہے۔
مداخیل قبیلے کے بعض گروہ گل بہادر کے پاکستانی طالبان شاخ یا اتحادالمجاہدین کونسل سے منسلک ہیں اور سرحد کے دونوں طرف رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اس علاقے میں سب سے طاقتور اور با اثر شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مارچ 2022 میں پاکستانی ہوائی حملوں کے بعد گل بہادر اس علاقے سے پکتیکا کے ضلع برمل چلے گئے، جبکہ ان کے کچھ کمانڈر شمل، خوست اور دیگر علاقوں میں منتقل ہوئے، لیکن ان کے زیر انتظام مدارس اور جنگجو اب بھی سپیرہ میں سرگرم ہیں۔
جولائی 2022 میں زلزلے کے بعد طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور دیگر افغان طالبان حکام نے اس علاقے کا دورہ کیا، جس کے بعد ٹی ٹی پی کے کمانڈر اختر محمد خلیل اور کمانڈر آفتاب داوڑ کے ساتھ سراج حقانی اور دیگر طالبان رہنماؤں کی ملاقات کی تصاویر جاری ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت سپیرہ کی دسویں اور تنی کی پانچویں طالبان بٹالین میں حافظ گل بہادر کے ایک کمانڈر سید انار المعروف قوماندان تلوار کے جنگجو تعینات ہیں۔
اس کے مطابق ان دو بٹالین کے ہتھیار امریکی انخلا کے بعد ٹی ٹی پی کے صادق نور گروپ اور ان کے کمانڈر آفتاب یاسر داوڑ کے ہاتھ لگے تھے۔ آفتاب داوڑ جو کبھی کبھار ہوائی جہاز سے کابل اور قندھار جاتا تھا، ایک حملے میں مارا گیا۔ گل بہادر کے گروپ نے اس واقعے میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کو ملوث قرار دیا۔ اطلاعات تھیں کہ آفتاب داوڑ امریکی جدید ہتھیار بلوچ جنگجوؤں کو بیچتا تھا۔
جون 2025 کے آخر میں پاکستان کے ہوائی حملوں کے خوف سے، حافظ گل بہادر اور مولوی صادق نور داوڑ پکتیکا کے ضلع برمل اور خوست کے ضلع شمل سے نامعلوم مقامات پر چلے گئے۔ رپورٹ کے مطابق حافظ گل بہادر اور دو دیگر ٹی ٹی پی کمانڈر قاری اسماعیل اور اختر محمد خلیل ضلع برمل میں مقیم تھے، لیکن پانچ دن پہلے علاقے کو چھوڑ چکے ہیں۔
مولوی صادق نور داوڑ اور ان کے دو مقامی کمانڈر، مولوی صدیق اللہ اور سید انار، شمل ضلع، خوست اور سرحدی علاقوں میں آمد و رفت کرتے رہے، لیکن 28 جون کو شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج پر خودکش حملے کے بعد یہ دونوں علاقے چھوڑ گئے۔
حملے کی ذمہ داری اتحادالمجاہدین گروپ نے لی، جس کی قیادت حافظ گل بہادر کر رہے ہیں اور اس کا زیادہ تر عمل شمالی وزیرستان میں مرکوز ہے۔
ذرائع نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا کہ حافظ گل بہادر پہلے تقریبات اور اجتماعات میں شریک ہوتے تھے، لیکن حال ہی میں خود کو الگ کر لیا تھا کیونکہ انہیں اطلاعات ملی تھیں کہ پاکستان انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔
گل بہادر کے دہشت گرد دستے
گل بہادر کے گروپ میں “جیش عمری”، “فرسان محمد”، “غازیانو کاروان”، “شمله ور کاروان”، “سفیان کاروان” اور “جیش انصار المہدی” نام سے مختلف دستے فعال ہیں، جو خودکش حملے، دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گل بہادر گروپ 2006 میں حکومت پاکستان کے ساتھ معاہدہ کر چکا تھا اور پاکستان میں اس گروپ کو “گڈ طالبان” اور پاکستان کا حامی گروپ کہا جاتا تھا، لیکن شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن کے بعد گل بہادر کے گروپ نے افغانستان کے اطراف میں ٹھکانے بنائے اور فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف شدید کارروائیاں شروع کیں۔
رپورٹ کے مطابق گل بہادر طالبان امیر ہبت اللہ آخندزادہ کی طرح شاذ و نادر ہی عوام میں نظر آتے ہیں، اور ابھی تک ان کا کوئی ویڈیو منظر عام پر نہیں آیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








