دبئی ایئر شو میں بھارتی جنگی طیارے تیجس کے پیش آنے والے سانحے کے بعد اب نئی تکنیکی معلومات منظرِ عام پر آ رہی ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ حادثہ کسی معمولی تکنیکی خرابی نہیں تھا بلکہ طیارے کی بنیادی ساختی کمزوریوں اور کمزور انجن کارکردگی کا نتیجہ تھا۔
ماہرین کے مطابق پائلٹ نے طیارے کو رول کی کیفیت سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی، مگر تیجس مطلوبہ ردِعمل نہ دے سکا۔ جب تک پائلٹ کو صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوا، طیارہ زمین کے خطرناک طور پر قریب آ چکا تھا۔
چار اہم فنکشنز
ایکس پر موجود اوپن سورس انٹیلی جنس اکاؤنٹ IRVES کی تکنیکی تشریح کے مطابق تیجس کا ڈیلٹا وِنگ ڈیزائن کم رفتار پر بلند زاویۂ حملہ پر انحصار کرتا ہے۔ اس صورت میں انڈیوسڈ ڈریگ غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے، وورٹیکس ڈریگ بھی شدید ہو جاتا ہے، موڑ کاٹتے وقت طیارے کی رفتار تیزی سے گرتی ہے، ناک مسلسل اوپر رکھنے کے باعث پائلٹ کا زمین دیکھنے کا زاویہ محدود ہو جاتا ہے۔
ایئر شوز کے دوران کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے پائلٹ عمومی طور پر اونچائی سے متعلق وارننگز نظر انداز کرتے ہیں، جس سے فیصلہ سازی کے قیمتی لمحے ضائع ہو جاتے ہیں۔ اسی تاخیر نے تیجس کے پائلٹ کو ایجیکٹ کرنے کا موقع بھی نہ دیا۔
بھارتی طیارے کی بنیادی خامی
IRVES کے مطابق کم رفتار، محدود بلندی، کمزور تھرسٹ ٹو ویٹ ریشو اور ڈیلٹا وِنگ کے شدید ڈریگ نے مل کر طیارے کو ایسی کیفیت میں دھکیل دیا کہ بچاؤ کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ ویڈیو کے فریمز بتاتے ہیں کہ اسی زاویے پر جدید لڑاکا طیارے رول سے نکل آتے ہیں، مگر تیجس بالکل بے بس نظر آیا۔ “یہ وہ لمحہ تھا جب مشین نے انسان کا ساتھ چھوڑ دیا۔”
اوپن سورس انٹیلی جنس ذرائع نے حادثے کا ذمہ دار تکنیکی خامیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی دباؤ کو بھی ٹھہرایا ہے۔ ان کے مطابق تیجس کا بنیادی انجینئرنگ ڈھانچہ کم طاقت والا انجن اور ڈیزائن کی بنیادی خامیاں اس سانحے کا حقیقی باعث بنیں اور اس کی قیمت ایک تجربہ کار پائلٹ کی جان سے چکانی پڑی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








