انٹرنیٹ کی اسپیڈ کیوں سست ہوگئی؟ یمن میں پیش آنے والا واقعہ سب کچھ بدل گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی سیکریٹری برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ضرار ہاشم کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور خلل کی بنیادی وجہ زیرِ سمندر کیبلز کا متاثر ہونا ہے جن کی مرمت میں کم از کم چار سے پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں رکن قومی اسمبلی صادق میمن نے ملک میں انٹرنیٹ سروسز کی سست روی اور رکاوٹوں سے متعلق سوال اٹھایا جس پر سیکریٹری آئی ٹی ضرار ہاشم نے کہا کہ یمن کے ساحلی علاقے کے قریب چار سے پانچ زیرِ سمندر کیبلز کٹ چکی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ خاصا سنجیدہ ہے کیونکہ یمن کی صورتحال بھی غیر مستحکم ہے جبکہ پاکستان آنے والی دو اہم کیبلز بھی متاثر ہوئی ہیں تاہم عارضی طور پر بینڈوڈتھ کو متبادل نیٹ ورکس پر منتقل کر دیا ہے۔

سیکریٹری کے مطابق ان کیبلز کی مرمت کے لیے خصوصی کشتیوں کی ضرورت ہوگی اور مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

رکن اسمبلی صادق میمن نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ اگر نئی کیبلز آرہی ہیں تو پھر انٹرنیٹ سروس اب تک متاثر کیوں ہے؟

اس پر ضرار ہاشم نے وضاحت کی کہ آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران پاکستان میں تین نئی کیبلز متوقع ہیں جو یورپ سے براہِ راست کنیکٹیوٹی فراہم کریں گی۔ ان کیبلز کے لیے باقاعدہ معاہدے ہوچکے ہیں۔

واضح ر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ زیرِ سمندر کیبلز کو نقصان پہنچا ہو۔ رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے اعلان کیا تھا کہ سعودی پانیوں میں کیبلز کے متاثر ہونے سے ملک میں انٹرنیٹ سروسز، خاص طور پر مصروف اوقات میں، متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان نقصانات سے ایس ایم ڈبلیو4 اور آئی ایم ای ڈبلیو ای نیٹ ورکس کی بینڈوڈتھ صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔

Related Posts