امریکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے قونصل خانہ پشاور کو مستقل طور پر بند کر دے گا جس کے بعد یہاں سے چلنے والی تمام سفارتی اور قونصلر خدمات اسلام آباد سے سنبھالی جائیں گی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس اقدام سے سالانہ تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔
پشاور قونصل خانہ طویل عرصے تک افغان سرحد کے قریب امریکی سفارت کاری اور لاجسٹک آپریشنز کا اہم مرکز رہا ہے۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ بندش ایران کے ساتھ جاری کشیدگی یا جنگ سے متعلق نہیں ہے بلکہ انتظامی اور مالی وجوہات پر مبنی ہے۔
امریکی قونصل خانے میں 18 امریکی سفارت کار اور عملہ کے ساتھ ساتھ 89 مقامی اہلکار بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ ایران میں جاری کشیدگی یا کسی جنگ سے متعلق نہیں ہے۔ قونصل خانہ بند کرنے پر تقریباً 3 ملین ڈالر لاگت آئے گی جس میں 1.8 ملین ڈالر بکتر بند ٹریلرز کو منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوں گے جو عارضی دفاتر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ باقی رقم قونصلیٹ کے موٹر فلیٹ، الیکٹرانک اور ٹیلی کمیونیکیشن آلات، اور دفتری فرنیچر کی اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور کراچی و لاہور میں قونصل خانوں کو منتقل کرنے پر خرچ کی جائے گی۔
افغان سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے پشاور قونصل خانہ زمینی سفر کے ذریعے افغانستان میں امریکی شہریوں اور مدد کے خواہاں افغان شہریوں کے لیے اہم سہولت فراہم کرتا رہا ہے۔
قونصل خانہ بند ہونے کے بعد اب قونصلر خدمات تقریباً 184 کلومیٹر (114 میل) فاصلے پر واقع اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








