گل پلازہ میں لگی پر قابو کیوں نہیں پایا جا رہا؟ اہم وجوہات سامنے آگئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

گل پلازہ فائر، فائل فوٹو

کراچی کے معروف تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ دوسرے روز میں داخل ہو گئی ہے، تاہم سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کے باوجود تاحال آگ پر مکمل طور پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

اتوار کی شام تک موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں نے تقریباً 70 فیصد آگ پر قابو پا لیا ہے، جبکہ باقی ماندہ حصے میں آگ بدستور بھڑک رہی ہے۔ شدید تپش، کثیف دھواں اور عمارت کی مخدوش حالت کے باعث ریسکیو آپریشن شدید مشکلات کا شکار ہے۔

آگ کیوں قابو میں نہیں آرہی ہے؟

ریسکیو حکام کے مطابق آگ پر مکمل قابو نہ پانے کی سب سے بڑی وجہ گل پلازہ کی پرانی عمارت ہے، جو 1988 میں تعمیر کی گئی ہے۔ عمارت کے پلرز کمزور ہو چکے ہیں اور کسی بھی وقت مزید حصے کے گرنے کا خدشہ موجود ہے، جس کے باعث فائر فائٹرز اندر داخل ہو کر کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔

اطلاعات کے مطابق آگ ایک دکان میں موجود مصنوعی پھولوں سے بھڑکی، جس کے بعد اس نے تیزی سے دیگر دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پلازہ میں موجود کپڑے، پلاسٹک اور دیگر آتش گیر سامان کی بڑی مقدار جلنے کے باعث آگ مزید پھیلتی رہی اور اسے بجھانا مشکل ہو گیا۔

شدید تپش اور دھویں کے باعث فائر فائٹرز کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے، جبکہ عمارت میں مناسب فائر فائٹنگ سہولیات، فائر ہائیڈرینٹس اور پانی کی کمی نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کے ایک حصے کے منہدم ہونے کے بعد امدادی کارروائیاں مزید احتیاط کے ساتھ کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے، یہ بھی آگ پر قابو پانے میں ناکامی ایک وجہ ہے۔

دوسری جانب پاک بحریہ، پاکستان رینجرز، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مشترکہ طور پر آگ بجھانے اور متاثرہ افراد کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آگ پر قابو پانے کے لیے پانی کے ساتھ ساتھ فوم کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

Related Posts