لاہور کے علاقے کاہنہ سینٹرل پارک کے قریب ایک گھر سے ملنے والی تین بوسیدہ لاشوں کا معمہ پولیس نے حل کر لیا ہے۔ پولیس نے مقتول باپ اور اس کے دو بیٹوں کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس نے تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم روحیل صابر خود تھانے پہنچ کر مقدمے کا مدعی بننے کی کوشش کر رہا تھا تاہم پولیس کو اس کے رویے پر شبہ ہوا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران سخت تفتیش کی گئی تو ملزم نے تینوں افراد کے قتل کا اعتراف کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق روحیل صابر منصورہ ملتان روڈ کا رہائشی ہے اور مقتول نعمان اختر کا قریبی رشتہ دار بتایا جا رہا ہے۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزم پر مقتول کے لاکھوں روپے واجب الادا تھے۔ رقم سے بچنے کے لیے اس نے 2 دسمبر کو مقتولین کو جوس میں نیند آور گولیاں ملا کر پلائیں جس کے بعد بے ہوشی کی حالت میں تینوں کو گلا دبا کر قتل کر دیا۔
یاد رہے کہ 17 جنوری کو سینٹرل پارک کے قریب واقع مکان سے ملنے والی لاشوں کی شناخت 65 سالہ نعمان اختر اور اس کے دو بیٹوں 35 سالہ کامران اور 30 سالہ عمران کے طور پر کی گئی تھی۔
ایک ماہ پرانی بوسیدہ لاشیں بر آمد! لاہور تین افراد کی پراسرار موت نے سب کو دہلا دیا
پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ تینوں لاشیں تقریباً 20 دن پرانی تھیں۔
محلے داروں کے مطابق مقتولین کئی دنوں سے نظر نہیں آ رہے تھے جبکہ گھر بھی طویل عرصے سے بند پڑا تھا جس پر علاقہ مکینوں کو تشویش لاحق ہوئی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کیں، جس کے نتیجے میں قاتل کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ کیس سے متعلق مزید انکشافات کی توقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








