شب قدر یا لیلۃ القدر کو ایک مسلمان کی زندگی میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس رات کی تلاش کیلئے بڑا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس رات مسلمان نوجوان اور بزرگ زیادہ سے زیادہ عبادت کی کوشش کرتے ہیں، آئیے جانتے ہیں اس میں ایسی کیا خاص بات ہے؟
شب قدر یا لیلۃ القدر ماہ مقدس رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں) میں سے ایک رات کو کہتے ہیں۔
اس رات کی اہمیت کیلئے یہی کافی ہے کہ قرآن میں اس رات کے نام سے ایک سورۃ بھی موجود ہے، نیز قرآن کے مطابق قرآن اس رات کو ہی نازل کیا گیا ہے۔
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اسلامی تعلیمات کے مطابق اس رات کی اللہ کے نزدیک بڑی قدر و منزلت ہے اور قرآن کے مطابق اس رات میں عبادت کرنے کی بہت فضیلت ہے۔ قرآن مجید میں اس رات کی عبادت کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اس حساب سے اس رات کی عبادت 83 سال اور 4 مہینے بنتی ہے۔
اس رات کو شب قدر کیوں کہا جاتا ہے؟
لیلۃ القدر کا معنی قدر اور تعظیم والی رات ہے یعنی ان خصوصیات اور فضیلتون کی بنا پر یہ قدر والی رات ہے یا پھر یہ معنی ہے کہ جو بھی اس رات بیدار ہو کر عبادت کرے گا وہ قدر اور عظمت والا ہوگا۔
قدر کا معنی تنگی بھی کیا گیا ہے، یعنی اس کی تعیین کا علم خفیہ رکھا گیا ہے کہ یہ اللہ نے نہیں بتایا کہ آخری عشرے کی کونسی طاق رات بطور خاص لیلہ القدر ہے؟
بعض حضرات کے بقول لیلۃ القدر کو قدر والی رات اس لیے کہتے ہیں کہ اس رات فرشتوں کی کثرت کی وجہ سے زمین تنگ ہوجاتی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ لیلۃ القدر، القدر کے معنی میں ہے یعنی دال پر زبر ہے، جس کے معنی تقدیر ہیں، وہ اس لیے کہ اس رات میں پورے سال کے احکام کی تقدیر لکھی جاتی ہے۔
یہ رات کیوں خفیہ رکھی گئی ہے؟
رہا یہ سوال کہ یہ رات کیوں خفیہ رکھی گئی ہے، اس سوال کا جواب اہل علم نے یہ دیا ہے کہ ایسا اہل ایمان کو زیادہ سے زیادہ عبادت میں مشغول کرنے کی ترغیب کیلئے کیا گیا ہے۔
اور اس لیے بھی تاکہ محنت، جدوجہد اور اخلاص اور جذبے کے ساتھ مسلمان اس رات کی تلاش کریں، ایسے میں جب وہ یہ رات پائیں گے تو اس کے درجات بہت زیادہ ہوں گے۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک مجلس میں شب قدر کی متعین رات بتانے لگے تھے کہ اس دوران مجلس میں کچھ ایسا ناگوار شور شرابا ہوا کہ اللہ کو اس کی بنا پر اس کی تعیین گوارا نہ ہوئی اور امت پر اس کا تعین مستور رہ گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








