لاہور جلسے سے قبل پی ٹی آئی کارکنان کی پکڑ دھکڑ کیوں شروع ہوئی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پی ٹی آئی جلسے
(فوٹو: بزنس ریکارڈر)

لاہور جلسے سے قبل ہی پی ٹی آئی کارکنان کی پکڑ دھکڑ شروع کردی گئی، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے جبکہ جلسہ 21ستمبر کو ہوگا۔

پولیس نے تحریکِ انصاف کے متعدد کارکنان کوگرفتار کر لیا ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں بشمول غازی آباد، برنس پورہ، شاہدرہ اور ڈیفنس سمیت دیگر علاقوں میں چھاپہ مار کارروائی جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ پکڑ دھکڑ اور کریک ڈاؤن کا مقصد کیا ہے؟

نجی ٹی وی ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق تحریکِ انصاف کے رہنما حماد اعوان کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کے بھائی اور کزن کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ شاہدرہ میں انجینئر یاسر گیلانی کے گھر اور کزن کی فارمیسی پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس نے صدر تحریک انصاف لاہور شیخ امتیاز کے گھر پر بھی بھی چھاپہ مارا تاہم شیخ امتیاز گھر پر موجود نہ ہونے کے باعث گرفتاری سے بچ گئے۔ ڈیفنس بی پولیس نے پی ٹی آئی کے 12رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا ہے۔

مقدمے کا اندراج راستہ بلاک کرنے سمیت دیگر دفعات کے تحت عمل میں لایا گیا جس میں غلام مصطفیٰ، تصور حسین اور غلام محی الدین سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔یہی نہیں بلکہ تحریک نصاف کے جلسے کی کال پر پولیس نے کنٹینرز پکڑنا شروع کردیے۔

اس کے علاوہ پولیس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہفتہ اور اتوار سے قبل ہی شہر کے داخلی راستے بند ہوسکتے ہیں۔اور پکڑے گئے کنٹینرز ممکنہ طور پر امامیہ کالونی پھاٹک، کاہنہ قصور چیک پوسٹ اور بابو صابو پر لگائے جائیں گے، عوام کا سوال ہے کہ تمام تر اقدامات کی وجہ کیا ہے؟

Related Posts