وہیلز سمندر کی دنیا میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں جہاں مختلف انواع و اقسام کی وہیلز کی جسامت، حجم اور وزن میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ یہ فرق کیوں ہوتا ہے؟
محققین کا کہنا ہے کہ جانوروں کے سائز کا تعلق ان کے خوراک استعمال کرنے کے انداز اور شکار کی دستیابی پر ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے انٹارکٹیکا میں پائی جانے والی 100 سے زائد وہیلز کے ساتھ سینسرز لگائے تاکہ سائز میں زمین آسمان کے فرق کی وجوہات معلوم کی جاسکیں، جس کے بعد برسوں تک ان کا مشاہدہ کیا گیا۔
علمِ حیاتیات کے ماہرین کو دو سوالوں کے جوابات درکار تھے۔ اوّل یہ کہ وہیلز اتنی بڑی کیوں ہوتی ہیں اور دوم یہ کہ وہ مزید بڑی کیوں نہیں ہوجاتیں؟
بڑا ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ وہیلز کو کم جدوجہد کے ساتھ زیادہ کھانا ملتا ہے جس سے وہ سمندر کی گہرائی میں دفن خزانوں کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں جو دیگر متعدد مخلوقات کی پہنچ سے دور ہیں۔
وہیلز کی استعمال اور حاصل کردہ توانائی کا تخمینہ لگانے سے پتہ چلتا ہے کہ 13 انواع و اقسام کی وہیلز کی جسامت، حجم اور وزن کا تعلق ان کے کھانے کے طریقے اور شکار کی دستیابی پر ہوتا ہے۔
اورکس نامی وہیل کی طرح دیگر تمام دانت رکھنے والی وہیلز کی جسامت کا تعلق ظاہری طور پر اس بات سے ہے کہ وہ ایک غوطہ لگانے پر کتنی خوراک حاصل کرسکتی ہیں۔
دوسری جانب نیلے رنگ کی وہیلز کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے جو فلٹر فیڈرز کہلاتی ہیں اور جو اپنے دانتوں والی ہم جنس وہیلز سے کہیں زیادہ بڑی ہوتی ہیں۔ فلٹر فیڈر ز کی جسامت کا انحصار کھانے کی دستیابی پر نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق فلٹر فیڈرز کی جسامت قدرتی طور پر بڑی ہوتی ہے۔ وہ اِس وقت ارتقاء کے عمل سے گزر رہے ہیں جس کے بعد وہ مزید بڑے بھی ہوسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جدید تحقیق میں یہ افسوس ناک انکشاف سامنے آیا کہ فضا میں آکسیجن کی کمی سمندروں پر بری طرح اثر انداز ہورہی ہے جس کے باعث 40 فیصد سمندری حیات موت کے خطرے سے دوچار ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق دنیا بھر میں تیز رفتار ماحولیاتی تغیرات اور شدید گرمی کے باعث سمندری پانیوں میں آکسیجن میں آکسیجن کی سطح تیزی سے گر رہی ہے جس سے سمندری حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
مزید پڑھیں: 40 فیصد سمندری حیات موت کے خطرے سے دوچار
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








