ملک کی معروف سماجی رہنما ماہ نور عمر نے ٹائم میگزین کی سال 2026 کی بہترین خاتون کا اعزاز حاصل کرلیا ہے جن کی نور فاؤنڈیشن دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں اور خواتین کو معاشرتی شعور دینے میں پیش پیش ہے۔
ٹائم میگزین کا کہنا ہے کہ ماہ نور عمر نے اپنے گھر میں کام کرنے والی ایک گھریلو ملازمہ سے سینٹری پیڈز کی قیمت پر گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان میں ہر خاتون ایسی بنیادی ضروریات کا خرچ برداشت نہیں کرسکتی اور بعض دیہات میں تو یہ مصنوعات دستیاب ہی نہیں ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی مصنوعات مہنگی ہونے کے باعث دیہاتی خواتین انہیں خریدنے سے گریز کرتی ہیں۔ یونیسیف نے تخمینہ لگایا ہے کہ پاکستان میں صرف 12فیصد خواتین ہی تجارتی طور پر تیار کردہ پیڈز یا ٹیمپون استعمال کرتی ہیں، حالانکہ اس کے متبادل کے طور پر کپڑے کا استعمال صحت کے مسائل کو جنم دیتا ہے۔
عالمی جریدے ٹائم میگزین نے 25سالہ ماہ نور عمر کو سال 2026 کی بہترین خاتون کے اعزاز سے اس لیے نوازا کیونکہ ماہ نور عمر صنفی مساوات کے نام پر اپنے جذبے اور مہارت کو بروئے کار لارہی ہیں۔ ماہ نور عمر کا کہنا ہے کہ میں بچپن سے دیکھتی آرہی ہوں کہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ انصاف نہیں کیاجاتا۔
ماہ نور عمر کا کہنا ہے کہ خواتین کو انصاف کی عدم فراہمی میرے اندر ایک فطری احساسِ ذمہ داری کو جنم دیتی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں ماہ نور عمر نے پیریڈ ٹیکس کو چیلنج کردیا تھا جبکہ مقدمے کی پہلی سماعت 2025 کے اختتام پر ہوئی تھی، جس میں عدالت کو حکومت کی جانب سے جواب کا انتظار ہے۔
یہ وہ مقدمہ ہے جس سے قومی سطح پر ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے جسے روایتی طور پر ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ ماہ نور عمر اس وقت لندن اسکول آف اکنامکس میں جینڈر، امن اور سلامتی کے شعبے میں ماسٹرز کر رہی ہیں۔ ماہ نور عمر کا کہنا ہے کہ جب تک ہر عورت کو آزادی نہیں ملتی، میں خود کو آزاد نہیں سمجھتی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








