الطاف حسین کو اسپتال میں کیوں داخل کیا گیا؟ بانی ایم کیو ایم کی صحت سے متعلق بڑی خبر

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ایم کیو ایم (متحدہ قومی موومنٹ) کے بانی الطاف حسین کو لندن کے ایک مقامی اسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ ان کی صحت ہفتے کے آخر میں شدید خراب ہو گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کی رات (1 فروری 2026) کو ان کا خون کا شمار (blood count) خطرناک حد تک گر گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر خون کی منتقلی (blood transfusion) کی گئی۔اب وہ اسپتال میں ڈاکٹرز کی نگرانی میں ہیں اور ان کی حالت مستحکم (stable) ہے۔

ڈاکٹروں نے مختلف ٹیسٹ تجویز کیے ہیں جن میں ای سی جی (ECG) اور دل کی نگرانی، سی ٹی سکین، الٹراساؤنڈ، اور خون کے جاری ٹیسٹ شامل ہیں تاکہ خون کی منتقلی کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

وجوہات:

پارٹی کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کو حال ہی میں شدید جذباتی اور ذہنی تناؤ (severe emotional and mental stress) کا سامنا ہے۔ اس کی وجوہات میں بین الاقوامی جیو پولیٹیکل تبدیلیاں اور برطانیہ میں جاری قانونی و مالی مسائل شامل ہیں۔

ایم کیو ایم کا بیان:

لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے اسپتال میں داخلے اور طبی عمل کی تصدیق کی ہے۔

ایم کیو ایم کی کوآرڈینیشن کمیٹی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں عوام اور پارٹی کے وفاداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ الطاف حسین کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کریں۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ افواہوں کو نظر انداز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن، سابق مرکزی سوشل میڈیا انچارج اور سابق مرکزی آرگنائزر ایم کیو ایم کینیڈا کا بیان:

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد جناب الطاف حسین شدید ذہنی دباؤ (Too much stress) اور 18 سے 20 گھنٹے تک تحریک کے کاموں میں دن رات مصروف رہنے کی وجہ سے طبیعت خراب ہو گئی ہے۔

طبیعت کی ناسازی کے باعث انہیں یکم فروری 2026 بروز اتوار لندن کے مقامی ہسپتال میں طبی معائنے کے لیے لے جایا گیا، جہاں ان کے مختلف طبی ٹیسٹ کیے گئے۔ بعد ازاں ڈاکٹروں نے انہیں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کر لیا ہے۔

پس منظر:

الطاف حسین نے 1984 میں مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھی تھی جو بعد میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے نام سے جانی گئی۔ یہ پارٹی اردو بولنے والی مہاجر کمیونٹی کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔

1992 سے وہ لندن میں مقیم ہیں اور برطانوی شہریت حاصل کر چکے ہیں۔ پارٹی کی قیادت وہ ٹیلی فونک خطاب کے ذریعے کرتے رہے لیکن بعد میں پاکستانی عدالتوں نے یہ خطاب روک دیے۔

2016 میں ان کی متنازعہ تقریر کے بعد پارٹی میں اندرونی تقسیم ہوئی اور مختلف دھڑے بن گئے جن میں ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن شامل ہیں۔

Related Posts