ایک شخص میرار جو لوڈھسا گاؤں کا رہائشی ہے نے ایک تحریری درخواست دی ہے جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بیوی رات کو سانپ میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اسے ڈسنے کی کوشش کرتی ہے۔
معراج نے بتایا کہ اس کی بیوی اسے پہلے بھی کاٹا ہے اور کئی بار وہ رات کے وقت جاگ کر بچ نکلا ہے۔ وہ اپنی جان کو خطرے میں محسوس کرتے ہوئے فوری تحفظ کا مطالبہ کر رہا ہے۔
سیتاپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈاکٹر اوم پرکاش گپتانے اس عجیب و غریب شکایت کا نوٹس لیا اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ اور پولیس کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ کیس ذہنی دباؤ یا بیماری کا ہو لیکن وہ پوری سنجیدگی سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پولیس نے بھی کہا کہ وہ معاملے کو ذہنی صحت کے نقطہ نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر میرار یا اس کی بیوی کا میڈیکل یا سائیکولوجیکل معائنہ کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر ہنگامہ
یہ خبر جیسے ہی سوشل میڈیا پر آئی، بہت سے لوگ اس پر حیران و پریشان اور مذاق کرنے لگے۔ ہزاروں صارفین نے مختلف مزاحیہ پوسٹس، میمز اور تبصرے کیے۔ ایک صارف نے مزاح میں کہا، “پتا نہیں وہ کتنے لوگوں کو پہلے ہی کاٹ چکی ہے جبکہ دوسرے نے طنز کرتے ہوئے پوچھاکہ کیا تم نے اس کا ناگمنی چھپا دی ہے؟
بہت سے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ گاؤں دیہات میں خرافات اور ذہنی صحت کے مسائل پر توجہ دینا بہت ضروری ہے کیونکہ ایسے دعوے اکثر تشدد یا سماجی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔
خرافات اور ناگن کی کہانیاں
بھارت میں ناگن یعنی وہ خواتین جو سانپ کی شکل اختیار کرلیتی ہیں کی کہانیاں بہت پرانی اور مقبول ہیں۔ یہ عقائد روایتی لوک کہانیوں اور مذہبی قصوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ بھارتی ٹی وی ڈرامے اور فلمیں بھی ان کہانیوں کو بہت عام کرچکے ہیں، جس سے لوگوں کی سوچ پر اثر پڑتا ہے خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں تعلیم اور صحت کی سہولیات کم ہوتی ہیں۔
سوشیالوجسٹ ڈاکٹر مینا ورما کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں لوگ اکثر اپنے مسائل کو لوک کہانیوں کی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ ایسے کیسز کو طنز یا مذاق نہیں بلکہ ہمدردی کے ساتھ سننا چاہیے۔
ذہنی صحت کی اہمیت
بھارت میں ذہنی بیماریوں کا صحیح اندازہ نہیں لگایاجاتا اور لوگ علاج سے گھبراتے ہیں۔ قومی ذہنی صحت سروے کے مطابق تقریباً ہر ساتویں بھارتی کو کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا سامنا ہوتا ہے، مگر لوگ علاج نہیں کراتے کیونکہ سماجی بدنامی کا خوف ہوتا ہے۔
ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی اور سہولیات بہت ضروری ہیں۔ سیتاپور کے حکام بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کمیونٹی میں آگاہی اور کاؤنسلنگ کی کیا ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔
اب کیا ہوگا؟
حکام نے ابھی تک اپنی تحقیقات مکمل نہیں کی ہیں اور معراج کی درخواست زیر غور ہے۔ اگلے چند دنوں میں حکام اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔
دوسری جانب یہ کہانی بھارت کے سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور یہ یاد دلاتی ہے کہ یقین اور حقیقت کے درمیان کی لکیر کس قدر نازک ہو سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








