اسلام آباد:وزیراعظم نے کہا ہے کہ کرپٹ اپوزیشن عوامی تحریک نہیں چلا سکتی، ساری گیم این آر او کی ہے، کونسی جمہوریت میں آرمی چیف کو حکومت ہٹانے کا کہا جاتا ہے؟ یہ کچھ بھی کر لیں این آر او نہیں ملے گا۔
تیاری نہ ہونے کا بہانہ کبھی نہیں بنایا، حکومت سنبھالنے سے پہلے بریفنگ لینے کی بات کی تھی۔ ایک انٹرویومیں وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ کرپٹ اپوزیشن عوامی تحریک نہیں چلا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ساری گیم این آر او کی ہے، کونسی جمہوریت میں آرمی چیف کو حکومت ہٹانے کا کہا جاتا ہے؟ یہ کچھ بھی کر لیں این آر او نہیں ملے گا، تیاری نہ ہونے کا بہانہ کبھی نہیں بنایا، حکومت سنبھالنے سے پہلے بریفنگ لینے کی بات کی تھی۔
دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت انسداد اسمگلنگ اقدامات پر اعلی سطح اجلاس کا انعقاد کیا گیا، وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزراء شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیر اطلاعات شبلی فراز، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی شہزاد اکبر، معاون خصوصی برائے محصولات ڈاکٹر وقار مسعود خان، کامرس، پیٹرولیم، بحری امور اور داخلہ ڈیویژن کے سیکریٹری صاحبان، چیئرمین ایف بی آر اور اعلیٰ سول و عسکری حکام کے علاوہ ویڈیو لنک سے صوبائی چیف سیکریٹریز، ایف سی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے آء جی صاحبان بھی شریک۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کے اسمگلڈ تیل کی فروخت کی وجہ سے معیشت کو 100 سے 150 ارب روپے سالانہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کے اس وقت ملک میں 2094 پیڑول پمپس اسمگلڈ تیل کی فروخت میں ملوث ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کے اسمگلنگ کی وجہ سے ملکی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انسداد اسمگلنگ اقدامات سے محصولات میں اضافہ ہوگا جو کے غریب عوام کی فلاح پر خرچ ہو سکے گا۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین اقدامات لیے جائیں۔