کیا پاکستان انجینئرنگ کمپنی کا رائٹ ایشو ریگولیٹری رکاوٹوں کی نذر ہو جائے گا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پنجاب حکومت کے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے پاکستان انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ (پی ای سی او) کی فیکٹری کو پراپرٹی ٹیکس کی عدم ادائیگی پر سیل کرنا ملک کے صنعتی و مالیاتی شعبے کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج اس پبلک لمیٹڈ کمپنی کی بندش سے نہ صرف انتظامی سرگرمیوں میں خلل پیدا ہوا ہے بلکہ کمپنی کے مالی و قانونی مسائل کی گہرائی بھی نمایاں ہوئی ہے۔

پی ای سی او کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ نوٹس میں بتایا گیا کہ فیکٹری کی سیلنگ کے بعد انتظامیہ متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے تاکہ رسائی بحال کی جا سکے۔

کمپنی حکام کے مطابق یہ بندش نہ صرف روزمرہ کے آپریشنز کو متاثر کر رہی ہے بلکہ یہ اس وقت ہوا جب کمپنی پہلے ہی مالی و ریگولیٹری دباؤ کا شکار ہے۔

جنوری 2025 میں کمپنی نے رائٹ ایشو کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی ہدایات کے باعث اس عمل پر عملدرآمد ممکن نہ ہو سکا۔ کمپنی کے نام کی کریڈٹ انفارمیشن بیورو (CIB) رپورٹ میں موجودگی، جو واجب الادا مالی ذمہ داریوں کی نشاندہی کرتی ہے، اس تاخیر کی بنیادی وجہ بنی۔

کمپنی کا مؤقف ہے کہ مجوزہ رائٹ ایشو کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان ریگولیٹری خدشات کو دور کیا جا سکے، اس لیے ایس ای سی پی کی جانب سے اس پر پابندی کمپنی کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

پی ای سی او کی بنیاد 1950 میں بی ای سی او (بٹالہ انجینئرنگ کمپنی) کے طور پر رکھی گئی۔ ماضی میں اس کمپنی نے پاکستان میں مشین ٹولز، صنعتی آلات، سائیکلیں، الیکٹرک موٹرز اور اسٹیل مصنوعات سمیت دیگر انجینئرنگ اشیاء کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔

1972 میں پیپلز پارٹی کی نیشنلائزیشن پالیسی کے تحت کمپنی کو قومی تحویل میں لے کر اس کا نام پاکستان انجینئرنگ کمپنی (پی ای سی او) رکھا گیا۔ اس کا موجودہ پلانٹ لاہور کے صنعتی زون کوٹ لکھپت میں واقع ہے اور 247 ایکڑ پر محیط ہے۔

کمپنی کو درپیش حالیہ مسائل اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں قومی اداروں کو جدید مالیاتی اور ریگولیٹری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پی ای سی او جیسے ادارے، جو کبھی ملک کے صنعتی فخر کی علامت تھے، آج انتظامی، مالیاتی اور قانونی مسائل کا شکار ہیں۔

اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال نہ صرف کمپنی بلکہ سرمایہ کاروں، ملازمین اور قومی معیشت کے لیے بھی مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

Related Posts