رجب طیب ایردوان نے اپنے سیاسی کیرئیر میں ہر الیکشن جیتا، دو دہائیوں تک ترکیہ کی سیاست پر چھائے رہے، اور ترکیہ کی تاریخ کے سب سے طاقت ور رہنما سمجھے جاتے ہیں۔
مگر آئندہ انتخاب میں ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ جو ان کے تیسری مدت کے لیے صدر بننے کے خواب اور دو دہائیوں سے زیادہ پر محیط ان کے متاثر کن قومی اور سیاسی کیریئر کا خاتمہ کر سکتا ہے۔
ان کا بس چلے تو وہ اپنی آخری سانس تک، جدید دور کی عثمانی سلطنت کے سلطان ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں:
بدترین معاشی حالات میں ہلال کمیٹی کی عیاشیاں، اجلاس کیلئے انتہائی پر تکلف کھانے کا ٹینڈر طلب
اگرچہ وہ قومی عقیدت کے لیے خود کو سلطان کہتے ہیں لیکن تجزیہ کار اور سیاست دان “سلطان” کی اصطلاح کو طاقت کے ارتکاز اور جمہوری اصولوں اور اداروں کو نظر انداز کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ترکیہ اور کرد علاقوں پر گہری نظر رکھنے والے امریکی سیاسی تجزیہ کار، میکس ہوفمین نے کہا تھا کہ “اردگان کی آمریت کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ انہیں ‘سلطان’ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جو کہ ترکیہ کی سیاست، معاشرے اور معیشت پر اس کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کو ظاہر کرتا ہے۔”
2016 میں ناکام بغاوت کے بعد سے ایردوان کے اقدامات کو بہت سے تجزیہ کار اور مغربی حکومتیں طاقت کے استحکام اور جمہوری طور پر منتخب صدر کے رویے سے زیادہ روایتی آمرانہ حکمران سے مشابہت رکھنے والے رویے کے طور پر دیکھتی ہیں۔
حالیہ برسوں کے دوران بے پناہ مقبولیت کے باوجود ایردوان کو آئندہ صدارتی انتخابات میں ایک مشکل جنگ کا سامنا ہے۔
تیسری مدت کے لیے صدر بننے کے لیے انہیں کن رکاوٹوں کو عبور کرنا ہو گا؟
سب کی نظریں زلزلے کے بعد حکومتی ردعمل پر ہیں.
ترکیہ کو فروری میں ملک کی جدید تاریخ کا بدترین زلزلہ آیا تھا۔ 7.8 شدت کے زلزلے اور اس کے آفٹر شاکس نے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو تباہ کیا جس میں 160,000 سے زیادہ عمارتیں تباہ ہوئیں، 100,000 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے، ایک ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے، اور 52,000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
ورلڈ بینک نے زلزلے سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ 34 بلین ڈالر سے زیادہ لگایا ہے جو کہ 2021 میں ترکیہ کی مجموعی جی ڈی پی کے چار فیصد کے برابر ہے۔ تاہم، اس تخمینے میں تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں ہیں، جو ممکنہ طور پر دوگنا ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے حساب سے کل اعداد و شمار کا نصف سے زیادہ رہائشی عمارتوں کو پہنچنے والے براہ راست نقصان کی قیمت تھی۔
زلزلے کے بعد ایردوان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ ان کی حکومت نے تباہی سے نمٹنے کے لیے امدادی کارروائیوں میں سستی کی اور کس طرح حکومتی اہلکاروں نے امدادی اداروں اور مقامی حکام کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔
حزب اختلاف کے چھ جماعتی اتحاد کے منتخب امیدوار کمال کلیک دار اوغلو نے اسے سیاسی فوائد کے لیے استعمال کرتے ہوئے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ایردوان نہیں جانتے کہ ریاست کو کیسے سنبھالنا ہے۔ اس عمل کا ذمہ دار اگر کوئی ہے تو وہ حکومت ہے۔ یہی حکمران جماعت ہے جس نے 20 سال سے ملک کو قدرتی آفت کے لیے تیار نہیں کیا۔
زلزلے کے متاثرین ، جنہوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، ہزاروں بے گھر لوگ اپنے مسائل کا کسی حد تک ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں۔ امدادی کارروائیوں میں تاخیر سے غم و غصہ بڑھا ہے۔
ایسے میں ایک صدارتی امیدوار کے لیے کافی مشکلات ہیں جس کی مقبولیت پہلے ہی کم ہو رہی تھی۔ انہیں لازمی طور پر عوام کی حمایت حاصل کرنے لیے کوشش کرنی ہوگی۔
یونیورسٹی آف ورجینیا کے سینٹر فار پولیٹکس کے ڈائریکٹر لیری سباتو کا کہنا ہے کہ ”جیسے ہی لوگ 14 مئی کو ووٹنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں، اردگان کا سیاسی مستقبل زیادہ تر عوام کے جذبات پر منحصر ہو سکتا ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ حکومت اس بحران سے کس طرح نمٹ رہی ہے۔”
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








