ٹھٹھہ کے سول اسپتال میں طبی عملے کی مبینہ غفلت اور ناقص انتظامات نے ایک بار پھر سرکاری صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں جب ایک خاتون کو زچگی کے انتہائی تکلیف دہ مرحلے میں اسپتال میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور مجبوراً اسے اسپتال کے دروازے کے باہر فٹ پاتھ پر ہی بچے کو جنم دینا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق دارو سے آنے والی حاملہ خاتون حلیمہ مچھی کو اتوار کے روز سول اسپتال ٹھٹھہ کے زچگی وارڈ میں داخلہ نہ دیا گیا۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ گائنی وارڈ کی آن کال ڈاکٹر نے یہ کہہ کر مریضہ کو داخل کرنے سے انکار کر دیا کہ عملہ موجود نہیں، لہٰذا فوری طور پر وارڈ خالی کیا جائے۔
اس صورتحال میں حلیمہ کی حالت بگڑتی رہی اور بالآخر اسپتال کے داخلی دروازے پر ہی اس نے بچے کو جنم دے دیا۔ اہلخانہ کے مطابق ماں اور بچہ دونوں کی حالت تشویشناک ہے۔
مقامی باشندوں اور متاثرہ خاندان نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹھٹھہ کا مرکزی سرکاری اسپتال بنیادی سہولیات فراہم کرنے سے بھی قاصر ہے جس کی وجہ سے غریب مریض مسلسل اذیت کا شکار ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس پروٹیکشن اینڈ سوشل جسٹس ٹھٹھہ نے بھی اسپتال انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سول اسپتال عملی طور پر ایک ریفرل سینٹر بن چکا ہے جہاں اکثر حاملہ خواتین کو نہ صرف دھتکارا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بدزبانی بھی کی جاتی ہے۔
تنظیم کے مطابق متعدد واقعات میں خواتین کو اسپتال سے نکال دینے کے باعث انہیں وارڈ کے باہر ہی بچے جنم دینے پڑے، جو مریضوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
رپورٹروں نے بھی بتایا کہ واقعے کی کوریج کے دوران کچھ افراد نے ان پر حملہ کر کے سونے کی چین، نقدی اور موبائل فون چھین لیے، جس نے اسپتال کے ماحول کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید واضح کر دیا۔
اسی روز ایک اور خبر میں بتایا گیا کہ چوہڑ جمالی کے علاقے میں ایک مزدور خاندان کے ہاں سرکاری ہیلتھ سینٹر مرید کوسو میں چار بچوں کی پیدائش ہوئی۔
دو لڑکے اور دو لڑکیوں پر مشتمل ان نوزائیدہ بچوں کے نام کریم بخش، نبی بخش، عظیمہ اور نسیمہ رکھے گئے ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق ماں اور چاروں بچے صحت مند ہیں اور اس غیرمعمولی خوشخبری نے مقامی آبادی میں مسرت کی لہر دوڑا دی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








