بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع دُمکا میں ایک غیر ملکی خاتون سیاح کو اس کے شوہر کے سامنے سات افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ خاتون کا شوہر شدید تشدد کا شکار ہوا۔
اسپین کے متاثرہ جوڑا 28سالہ فرنانڈا اور 63سالہ ویسنٹے موٹر سائیکل کے ذریعے دنیا کا سفر کر رہے تھے،یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں سیاح بھارت سے نیپال کی جانب جا رہے تھے اور دُمکا کے علاقے میں رات کے قیام کے لیے کیمپ لگا کر رکے تھے۔
رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے ویسنٹے پر حملہ کیا اور اسے ہیلمٹ اور پتھر سے بری طرح زخمی کیا جس کے نتیجے میں اس کا منہ بری طرح زخمی ہو گیا۔ اس کے بعد ملزمان نے خاتون فرنانڈا کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق متاثرہ خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ رات 11 بجے کے قریب گشت پر مامور پولیس وین تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون اور اس کے شوہر نے کرماہاٹ کے قریب ایک جنگلاتی علاقے میں کیمپ لگایا تھا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کی گئی۔
پولیس نے اس واقعے میں ملوث تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جبکہ باقی چار افراد کی تلاش جاری ہے۔
واقعے کے بعد متاثرہ جوڑے نے سوشل میڈیا پر اپنے خوفناک تجربے کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں نے ویسنٹے کے گلے پر چھری رکھ کر جان سے مارنے کی دھمکی دی اور دو گھنٹے تک فرنانڈا کے ساتھ زیادتی کرتے رہے۔
فرنانڈا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے باری باری مجھ پر ظلم کیا، کچھ لوگ نگرانی پر تھے اور باقی حملہ آور زیادتی کرتے رہے۔ یہ اذیت تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔
بعد ازاں فرنانڈا نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں اس نے اپنے موٹر سائیکل کے ساتھ کھڑے ہو کر کہا کہ زندگی ایک نعمت ہے، ہم نے موت کو قریب سے دیکھالیکن اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ برائی کے سامنے ہار نہیں مانیں گے۔ ہم اپنا سفر جاری رکھیں گے کیونکہ رُک جانا بُرائی کی جیت ہوگی۔
اس دل دہلا دینے والے واقعے کے باوجود، فرنانڈا اور ویسنٹے نے اپنی موٹر سائیکل مہم کو جاری رکھا اور بھارت سے نکل کر سری لنکا، پھر اپنے آبائی ملک اسپین واپس گئے۔ رواں سال اپریل میں دونوں نے مراکش کا سفر بھی موٹر سائیکل پر مکمل کیا اور کہا کہ وہ زندگی کے نئے معنی سمجھ چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








