نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے-الیکٹرک کے لیے 2024 سے 2030 کے مالی سالوں کی بجلی نرخوں کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت کراچی کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
ترجمان کے-الیکٹرک کے مطابق نیپرا نے فی یونٹ بجلی کی اوسط قیمت 39.97 روپے سے کم کرکے 32.37 روپے مقرر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ کے-الیکٹرک کی بجلی پیدا کرنے، ترسیل، تقسیم اور سپلائی کے تمام شعبوں پر لاگو ہوگا۔
اگرچہ یہ فیصلہ صارفین کے لیے خوش آئند ہے اور گھریلو و صنعتی بلوں میں کمی کی امید ہے لیکن ترجمان کا کہنا ہے کہ نیپرا کی طرف سے کچھ دیگر فیصلے کمپنی کے لیے ناقابلِ قبول ہیں جو نہ صرف کاروبار پر بلکہ صارفین پر بھی دور رس اثرات ڈال سکتے ہیں۔
کے-الیکٹرک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور اپنے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی راستے اختیار کرے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین کو فوری ریلیف تو مل سکتا ہے لیکن ممکنہ قانونی کارروائیوں کی وجہ سے صورتحال میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔
پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں اس طرح کی تبدیلی عام طور پر صارفین کے لیے بڑی خبر ہوتی ہے خاص طور پر جب مہنگائی کا دباؤ پہلے ہی موجود ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








