امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں ایک اسکول بورڈ کے اجلاس کے دوران ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون نے پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اچانک اپنے کپڑے اتارنا شروع کر دیے۔
یہ واقعہ 18 ستمبر کو ڈیوِس جوائنٹ یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ کے اجلاس میں پیش آیا جہاں والدین اور کمیونٹی کے نمائندے شریک تھے۔
خاتون کی شناخت بیتھ بورن کے نام سے ہوئی ہے جو مامز فار لبرٹی نامی تنظیم کی صدر ہیں اور اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے تنازعات میں منظر عام پر آ چکی ہیں۔
انہوں نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اسکول کی اس پالیسی پر سخت اعتراض کیا جس کے تحت ٹرانس جینڈر طلبہ کو اپنی مرضی کے واش روم اور لاکر روم استعمال کرنے کی اجازت ہے۔
بیتھ بورن نے کہا کہ وہ یہ عمل صرف اس لیے کر رہی ہیں تاکہ یہ دکھا سکیں کہ اسکول کی موجودہ پالیسی کے باعث لڑکیوں کو کس قدر غیر محفوظ اور بے چینی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
GOOD FOR HER: A 50-year-old mother was protesting the district's policy allowing students to use locker rooms based on gender identity.
Stripped down to a bathing suit at a California School Board meeting, asking officials: "If you are disrupted by a 50-year-old woman in a… pic.twitter.com/4XHgHPYVB0
— Desiree (@DesireeAmerica4) September 28, 2025
جیسے ہی انہوں نے اپنے کپڑے اتارنا شروع کیے اور صرف تیراکی کا لباس پہن کر خطاب جاری رکھا، اجلاس میں موجود افراد حیران اور پریشان رہ گئے۔
واقعہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب شرکاء کی جانب سے شور اور اعتراضات بلند ہوئے اور اجلاس کا ماحول انتشار کا شکار ہوگیا۔
بالآخر بورڈ کے اراکین نے اجلاس کو فوری طور پر ملتوی کر دیا۔ یہ واقعہ امریکہ میں تعلیم اور صنفی پالیسیوں پر جاری تنازعے کی ایک تازہ مثال کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








