میکسیکو سٹی کی مقامی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوران بحث اس قدر شدت اختیار کر گئی کہ چند خواتین اراکین کے درمیان ہاتھا پائی ہو گئی۔ واقعے میں بال کھینچنے، دھکم پیل، کوہنیوں کے وار اور تھپڑ مارنے جیسے مناظر دیکھنے میں آئے جو براہِ راست کیمروں کی آنکھوں کے سامنے نشر ہوتے رہے۔
یہ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب تقریباً پانچ خواتین اراکین نے ایک متنازع مجوزہ قانون پر بحث کے دوران اختلافِ رائے کا اظہار کیا۔ زیرِ بحث بل کا تعلق شہری حکومت کے شفافیت سے متعلق نگران ادارے میں مجوزہ تبدیلیوں سے تھا جس پر ایوان میں شدید کشیدگی پائی جاتی تھی۔
سیاسی کشیدگی کی وجہ
دائیں بازو کی نیشنل ایکشن پارٹی (PAN) سے تعلق رکھنے والی خواتین اراکین نے الزام عائد کیا کہ حکمران مورینا پارٹی نے قانونی ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ اسی دوران PAN کی اراکین احتجاجاً مرکزی پوڈیم کی جانب بڑھیں جس پر صورتحال مزید خراب ہو گئی۔
This is a real video of a Mexico City Congress session on Monday.
Legislators can be seen shoving each other and pulling hair at the podium.
The opposition party did this to physically block voting on the budget.
What a complete mess and embarrassment.
(apnews on TT) pic.twitter.com/JvcVxHs1wu
— Paul A. Szypula 🇺🇸 (@Bubblebathgirl) December 16, 2025
واقعے کی وڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ PAN اور مورینا پارٹی کی خواتین اراکین شدید غصے کے عالم میں ایک دوسرے سے الجھ پڑیں۔ بال کھینچے گئے، ایک دوسرے کو دھکے دیے گئے جبکہ ایوان میں شور، چیخ و پکار اور بدنظمی پھیل گئی۔ بعض اراکین نے کوہنیوں اور ہاتھوں کے ذریعے مخالفین کو پیچھے ہٹانے کی کوشش بھی کی۔
دونوں جماعتوں کے مؤقف
نیشنل ایکشن پارٹی کے رہنما آندریس آٹائیڈے نے کہا کہ ان کی جماعت کی خواتین اراکین نے پرامن انداز میں پوڈیم سنبھالنے کی کوشش کی اور کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ ان کے مطابق، اصل اشتعال مورینا پارٹی کے حامیوں کی جانب سے ہوا جنہوں نے زبردستی پوڈیم پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔
PAN کی ایک اور رکن، ڈینییلا آلویریز نے واقعے کو شرمناک اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے رویے اس وقت مزید قابلِ مذمت ہیں جب شہر میں اکثریتی حکومت ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہو۔
دوسری جانب مورینا پارٹی کے ترجمان پاؤلو گارسیا نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی بحث کے بجائے منظم تشدد کی راہ اختیار کر رہی ہیں، جو جمہوری اقدار کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
جھڑپ کے بعد نیشنل ایکشن پارٹی کی خواتین اراکین نے بطور احتجاج اسمبلی کا اجلاس چھوڑ دیا جس کے باعث ایوان میں ان کی حاضری ختم ہو گئی۔ اس کے برعکس مورینا پارٹی کے اراکین نے اجلاس میں رہتے ہوئے بحث کا عمل جاری رکھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








