اسلام آباد: عالمی بینک نے موجودہ اقتصادی بحران سے نکلنے کیلئے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی معاشی پالیسیوں میں وسیع تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ”روشن مستقبل“ کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کے دوران عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نجے بینہاسن نے کہا کہ پاکستان کو میثاقِ معیشت کی بجائے وسیع البنیاد پالیسی اپنانا ہوگی۔
ریلوے کا مالی خسارے کی وجہ سے شالیمار ایکسپریس بند کرنیکا فیصلہ
خطاب کے دوران کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک نے کہا کہ معاشی پالیسی سازوں اور سیاستدانوں کو معاشی اصلاحات کے 5 نکاتی ایجنڈے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ پاکستان سالانہ 7.2 کھرب کی جگہ 15کھرب تک وصولیاں کرسکتا ہے۔
کنٹری ڈائریکٹر نجے بینہاسن نے کہا کہ اگر ٹیکس کی شرح میں 3 فیصد تک اضافہ کرنا ہے تو رئیل اسٹیٹ اور زراعت کے شعبوں پر ٹیکس عائد کیا جائے، طویل المدتی ٹیکس وصولی جی ڈی پی کے 9.6فیصد تک ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی پیدا کرنے والے موجودہ نظام سے بہت زیادہ منافع حاصل کر رہے ہیں۔ تقسیم کار کمپنیوں میں بد انتظامی نقصانات میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان میں 1 کروڑ 25لاکھ افراد خطِ افلاس سے نیچے آچکے ہیں۔
پاکستان کو امیر طبقے کیلئے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس پر انحصار کم کرتے ہوئے پاکستان اپنے معاشی مسائل پر قابو پاسکتا ہے۔ پاکستان سماجی طور پرنقصان دہ اور مضر صحت اشیا پر ٹیکس میں اضافہ کرے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








