پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج پانی کا عالمی دن منایا جارہا ہے، جس کا مقصد پانی کی اہمیت، اس کے ضیاع کی روک تھام اور بڑھتے ہوئے عالمی آبی بحران کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ سن 2026 کے لیے اس دن کا مرکزی موضوع پانی کے پائیدار استعمال اور صاف پانی تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پانی کا عالمی دن پہلی بار 1993ء میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے منایا گیا تھا، اور تب سے ہر سال 22 مارچ کو یہ دن دنیا بھر میں مختلف موضوعات کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دنیا اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور اربوں افراد کو صاف پانی تک مکمل رسائی حاصل نہیں۔
پاکستان میں بھی پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ تازہ اندازوں کے مطابق ملک کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ فی کس پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہوکر تقریباً 900 کیوبک میٹر سالانہ سے بھی نیچے جاچکی ہے، جو عالمی معیار کے مطابق “پانی کی قلت” کی سطح ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان میں تقریباً 70 سے 80 فیصد افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، جبکہ زیرِ زمین پانی تیزی سے کم اور آلودہ ہورہا ہے۔ صنعتی فضلہ، سیوریج کا اخراج اور ناقص واٹر مینجمنٹ اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر ڈیمز کی تعمیر، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند برسوں میں پاکستان کو شدید آبی بحران اور خشک سالی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








