زمین پر موجود ہر شے خدائے واحد نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کے تصرف میں دے دی جس میں سمندر بھی شامل ہیں جبکہ زمینی سطح کے 71 فیصد حصے پر سمندر اور محض 29 فیصد حصے پر خشکی ہے جہاں انسان سمیت دیگر خشکی کے جاندار بستے ہیں۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر سمندروں نے زمین کے 71 فیصد کو گھیر رکھا ہے تو خشکی سمندر میں ڈوب کیوں نہیں جاتی؟ تاہم سائنسی اعتبار سے سمندر زمین کی کمیت کا محض اعشاریہ صفر 2 فیصد حصہ ہیں کیونکہ زمین کی 3 پرتیں ہیں جن میں سے سب سے اندرونی پرت انتہائی گرم ہے۔
کرۂ ارض کی دیگر دو پرتوں میں سے ایک پر سمندر اور خشکی موجود ہیں جبکہ دوسری لاوے اور بالائی سطح کے درمیان موجود ہے اور ہم آج زمین کی بالائی سطح پر موجود سمندروں کا عالمی دن منا رہے ہیں جس کامقصد آبی حیات کے تحفظ پر بنی نوع انسان کی آگہی بیدار کرنا ہے۔
سمندروں کے عالمی دن کی اہمیت
جب ہم عوامی صحت کو درپیش خطرات کے بارے میں سوچتے ہیں، عام طور پر سمندر ذہن میں نہیں آتا جبکہ سمندر کا انسانی صحت کے ساتھ کافی گہرا تعلق ہے کیونکہ سمندروں میں جو خوردبینی جاندار انتہائی گہرائی سے ملے ہیں آج دنیا میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کورونا وائرس کی تیز رفتار تشخیص میں استعمال کیا جارہا ہے۔
آپ سمندروں کو زمین کے دل اور پھیپھڑے بھی قرار دے سکتے ہیں کیونکہ کرۂ ارض پر استعمال ہونے والا 40فیصد تازہ پانی سمندروں سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ سانس لینے کیلئے ہم جو آکسیجن استعمال کرتے ہیں اس کی 75 فیصد مقدار سمندروں سے آتی ہے۔
یہی نہیں بلکہ سمندروں میں وہ آبی حیات موجود ہے جس سے انسان فائدہ حاصل کرتا ہے۔ انسان مچھلیاں کھاتا ہے اور دیگر آبی حیات جو کھانے کے قابل نہیں ہوتی جس میں پودے بھی شامل ہیں، ان سے آکسیجن، ادویات اور دیگر فوائد حاصل کرتا ہے، اس لیے سمندروں کی اہمیت کسی دور میں کم نہیں ہوسکتی۔
سمندروں کو لاحق سب سے بڑے خطرات
سوال یہ ہے کہ سمندروں کو آج سب سے بڑے کیا خطرات لاحق ہیں جن سے بنی نوع انسان انہیں بچانے کے لیے اقدامات کریں تو سمندروں کو آج سب سے بڑا خطرہ آبی آلودگی اور گلوبل وارمنگ سے لاحق ہے کیونکہ آبی آلودگی سے سمندری حیات خطرے میں ہے۔
لوگ ساحلوں پر تفریح کیلئے جاتے ہیں تو وہاں مسلسل کوڑا کرکٹ اور کچرا پھینکتے رہتے ہیں جو مچھلیوں کے حلق میں پھنس جاتا ہے اور وہ مر جاتی ہیں۔ مچھلیوں کے ساتھ ساتھ دیگر آبی حیات مثلاً کچھووں، کیکڑوں اور ڈولفنز کو بھی آبی آلودگی کے باعث سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے 30 برسوں یعنی سن 2050ء تک سمندر میں پلاسٹک کا کچرا اس قدر بھر جائے گا کہ مچھلیاں اس سے کم ہوجائیں گی جس سے مچھیروں کا روزگار شدید متاثر ہوگا۔ چھوٹی مچھلیاں آبی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں جنہیں بڑی مچھلیاں کھا کر زندہ رہتی ہیں، اس طرح ان کی خوراک بھی کم ہو گئی ہے۔
دوسری جانب گلوبل وارمنگ نے خود انسان کی زندگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کیونکہ گلوبل وارمنگ کے باعث بڑے بڑے گلیشئرز پگھل کر سمندروں میں جا ملیں گے جس سے سمندروں کا پانی ساحلی شہروں کو آہستہ آہستہ نگلنا شروع کردے گا۔ اس سے انسانوں کی بڑی بڑی آبادیاں تو ڈوبیں گی ہی ، سمندری حیات بھی نت مسائل کا شکار ہوجائے گی۔
پاکستان میں سمندری صورتحال
پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے میدانوں، صحراؤں، پہاڑی اور سمندری ہر طرح کے علاقوں سے نوازا ہے۔ وطنِ عزیز کا ساحل 1 ہزار 50 کلومیٹر طویل ہے جس میں سے 700 کلومیٹر بلوچستان جبکہ 350 کلومیٹر سندھ سے منسلک ہے۔ ہر سال پاکستان کروڑوں کی مچھلیاں اور دیگر آبی حیات ایکسپورٹ کرتا ہے۔
ملک بھر کے 40 لاکھ سے زائد افراد مچھلیاں اور دیگر آبی حیات کو پکڑ کر اس سے روزگار کماتے ہیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے پیشے میں کمی آرہی ہے جس کی بنیادی وجہ آبی آلودگی کے باعث شکار کا کم ملنا ہے۔
آبی آلودگی کا ذمہ دار کون؟
دنیا کی 40 فیصد آبادی یعنی کروڑوں نہیں بلکہ اربوں افراد سمندروں کے قریب رہتے ہیں۔ یہ لوگ ساحلی پٹیوں کے قریب 100 کلومیٹر کے دائرے میں آباد ہیں۔ خدانخواستہ کسی طوفان کی صورت میں سب سے زیادہ یہی لوگ متاثر ہوتے ہیں جو اس کے قریب رہنے والے ہوتے ہیں۔
انسانوں کی زندگی سمندروں سے جڑی ہوئی ہے اور انسان ہی آبی آلودگی کے ذمہ دار ہیں کیونکہ خود آبی حیات یا جانور اپنے طور پر کچھ نہیں کرسکتے، نہ ہی انہیں اتنی عقل یا صلاحیت دی گئی ہے کہ وہ آلودگی کو کم کرنے کیلئے کوئی اقدامات اٹھا سکیں۔
ہم کیا کرسکتے ہیں؟
عوام کو چاہئے کہ سیروتفریح کیلئے سمندر کا رخ ضرور کریں لیکن اگر وہاں کچرا پھیلا ہوا ہو تو اسے صاف کرنے میں حکومت کی مدد کریں کیونکہ اپنے طور پر کچرے کو ختم کرنے کیلئے حکومتی کاوشیں یکطرفہ اقدامات سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ حکومت صفائی کرتی ہے اور عوام دوبارہ کچرا پھیلاتے ہیں جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔
جب تک عوام میں یہ شعور اجاگر نہ کیا جائے کہ ہم جو سانس لے رہے ہیں اس کا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو بنایا ہے، لوگ سمندر کا احساس نہیں کریں گے۔ اگر کوئی بچہ کچرا پھینک رہا ہو تو اسے روکیں اور اگر کوئی بڑا یہ حرکت کرتا دکھائی دے تو روکنے کے ساتھ ساتھ سمجھائیں اور معلوماتی مواد بھی مہیا کریں۔
ایک بار یہ شعور اجاگر ہوجائے کہ سمندر ہماری زندگی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں اور سمندری حیات خدا کی ایسی نعمت ہے جو اگر ایک بار کھو گئی تو دوبارہ پیدا نہیں کی جاسکتی تو عوام خود ہی احتیاط شروع کردیں گے اور یہی سمندروں کے عالمی دن کا سب سے بڑا مقصد ہے۔