وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی احتساب عدالت نے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے اثاثہ جات اور بینک اکاؤنٹس بحال کرتے ہوئے ماضی کا حکم واپس لینے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد نے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے اثاثہ جات ضبط کرنے کا حکم واپس لے لیا۔ تحریری فیصلہ معزز جج محمد بشیر نے جاری کیا۔
اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھ گئی
وفاقی احتساب بیورو (نیب) کا ریفرنس واپس ہونے کے بعد اثاثہ جات اور بینک اکاؤنٹس کی بحالی کا فیصلہ جاری ہوا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اسحاق ڈار سرنڈر کرچکے ہیں۔
ریمارکس کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کا مقدمہ دائرۂ اختیار کے اختتام پر ختم ہوگیا۔ استغاثہ نے بھی عدالت کو قانون کے مطابق مناسب آرڈر جاری کرنے کا کہا۔
احتساب عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ اسحاق ڈار کے اثاثوں کی ضبطگی کا حکم واپس لیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ اثاثہ جات ریفرنس میں اسحاق ڈار کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم دسمبر 2017 میں جاری ہوا تھا۔
موجودہ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے اشتہاری ہونے پر عدالت نے ان کے بینک اکاؤنٹس اور لاہور کا گھر بھی ضبط کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم نیب آرڈیننس کے اطلاق کے بعد فیصلہ واپس لے لیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








