اسلام آباد: پاکستان سمیت دُنیا کے ہر ملک میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں، یومِ عاشور آج مذہبی جوش و جذبےسے منایا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 10 محرم الحرام کے روز میدانِ کربلا میں سن 61 ہجری کو خون کی وہ ہولی کھیلی گئی جس سے تاریخِ انسانی لرز اٹھی لیکن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے رفقاء کے ساتھ شجاعت و بہادری کی وہ تاریخ رقم کی کہ اسلام اور شریعتِ اسلامیہ ایک بار پھر زندہ ہو گئی۔
یزید نے شہدائے کربلا پر بے شمار مظالم ڈھائے، خواتین اور بچوں کا لحاظ نہ کرتے ہوئے رفقائے امام حسینؓ پر پانی بند کردیا، پانی لینے کیلئے نکلنے والے حضرت عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے بازو کاٹ دئیے اور تمام رفقائے حسینؓ میدانِ کربلا میں یزیدی لشکر کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
شہدائے کربلا بظاہر اِس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے لیکن رہتی دنیا تک انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے نام پر ہر حساس دل آنسو بہاتا اور انہیں یاد کرتا رہے گا لیکن یزید کا نام عزت و احترام کے ساتھ لینے والا کوئی شخص آج روئے زمین پر موجود نہیں۔
واقعۂ کربلا کو آج کم و بیش 14 صدیاں بیت گئیں لیکن ہر سال مسلمان اس واقعے کی یاد کیلئے عاشورۂ محرم مناتے ہیں اور روزے رکھنے، جلوس نکالنے اور سبیلیں لگا نے سے امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واقعۂ کربلا کی اسلامی تاریخ اور محرم الحرام کی خصوصی اہمیت
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








