اب ٹیچر ،قاری ،رشتے دار یا کوئی بھی زبردستی کرکے تو دکھائے! جانتے ہیں والدین اپنے بچوں کو کیسے محفوظ بناسکتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

اب ٹیچر ،قاری ،رشتے دار یا کوئی بھی زبردستی کرکے تو دکھائے! والدین اپنے بچوں کو ایسے محفوظ بناسکتے ہیں
ONLINE

پاکستان میں اب بچے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہے، اسکول، مدرسہ، محلہ، حتیٰ کہ بعض اوقات اپنا ہی گھر وہ تمام جگہیں جہاں بچے اعتماد سے جاتے ہیں، وہی ان کے لیے خوف کی علامت بنتی جا رہی ہیں۔

اساتذہ، قاری حضرات، رشتہ دار اور محلہ دار جنہیں بچوں کے محافظ ہونا چاہیے اکثر انہی میں سے کچھ درندہ صفت افراد بچوں کی معصومیت کو روندنے کی کوشش کرتے ہیں۔

زیادتی کے بڑھتے واقعات اور والدین کی لاعلمی یا خاموشی، ان معصوموں کی زندگی کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور والدین، اپنے بچوں کو وہ شعور، اعتماد اور ہمت دیں کہ کوئی بھی قاری یا استاد، یا کوئی اور شخص ان کے ساتھ زبردستی نہ کر سکے۔

یہ تحریر تمام والدین، سرپرستوں، اساتذہ، نوجوان لڑکوں اور خصوصاً لڑکیوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں بعض اوقات ایسے خطرات چھپے ہوتے ہیں، جن سے ہم بے خبر ہوتے ہیں۔

ذیل میں چند واضح اور عملی اصول دیے جا رہے ہیں جو بچوں اور نوجوانوں کو نہ صرف تحفظ فراہم کریں گے، بلکہ بروقت خطرے کو پہچاننے اور بچاؤ کا شعور بھی دیں گے۔

تنہائی میں بلانے سے انکار کریں
اگر کوئی بھی شخص چاہے وہ استاد ہو، اسکول کا عملہ، ڈرائیور، چوکیدار، یا کوئی بڑا طالب علم آپ کو اکیلے میں بلائے، تو ہرگز نہ جائیں۔ ایسی صورت میں فوری طور پر کسی بڑے کو آگاہ کریں۔

مدرسے یا مسجد کے اساتذہ کی نجی جگہ پر تنہائی سے گریز
اگر کوئی قاری صاحب، مدرس یا امام صاحب اپنی رہائش گاہ یا کمرے میں تنہائی میں بلائیں تو وہاں نہ جائیں اور اس بات کی اطلاع والدین کو ضرور دیں۔

دکاندار کی تنہائی میں بلانے کی دعوت مسترد کریں
گاؤں یا شہر میں کسی دکان دار کی جانب سے دکان کے اندر آنے کی دعوت ہو تو انکار کریں۔ خاص طور پر 8 یا 10 سال سے بڑی بچیوں کو تنہا دکان پر بھیجنے سے گریز کریں۔

باہر سے دی گئی کھانے پینے کی اشیاء قبول نہ کریں
کسی اجنبی یا باہر کے فرد سے کھانے کی کوئی چیز نہ لیں۔ اگر لینا پڑے تو ہرگز نہ کھائیں بلکہ بعد میں خاموشی سے پھینک دیں۔

نامعلوم افراد کی باتوں پر یقین نہ کریں
اگر کوئی اجنبی یہ کہے کہ آپ کے والد، بھائی یا چچا فلاں جگہ پر موجود ہیں اور آپ کو بلا رہے ہیں، تو فوراً کہیں کہ وہ خود یہاں آ جائیں، میں ان کے ساتھ تب ہی جاؤں گا/گی۔

شک کی صورت میں تنہا کمرے میں جانے سے انکار کریں
اگر کوئی استاد یا قاری آپ کو کمرے سے کوئی چیز لانے کو کہیں اور آپ محسوس کریں کہ وہ بھی ساتھ آ رہے ہیں، تو تنہا اندر جانے سے معذرت کر لیں۔

زبردستی یا نامناسب رویے پر فوری ردِ عمل دیں
اگر کوئی بڑا، استاد یا مذہبی شخصیت آپ کی مرضی کے خلاف زبردستی کرے یا جسمانی طور پر ہاتھ لگانے کی کوشش کرے، تو فوراً بھاگ کر لوگوں کے درمیان پہنچیں۔

دھمکیوں یا جذباتی دباؤ سے مرعوب نہ ہوں
اگر کوئی ٹیچر یہ کہے کہ بات نہ مانی تو نمبر کاٹ دوں گا یا فیل کر دوں گا، یا دینی حوالوں سے ڈرائے، تو فوراً والدین کو بتائیں۔

گھر میں آنے والے کام کرنے والوں پر نظر رکھیں
گھریلو ملازمین یا مرمت کے لیے بلائے گئے افراد جیسے مستری، مزدور، پلمبر، الیکٹریشن پر خاص نظر رکھیں۔ صرف قابلِ اعتماد افراد کو ہی گھر میں داخل ہونے دیں۔

جسمانی حدود کی خلاف ورزی پر فوری پیچھے ہٹیں
اگر کوئی اجنبی یا جان پہچان والا شخص بار بار جسم کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرے، تو فوراً دور ہو جائیں اور گھر آ کر اپنے والدین کو بتائیں۔

جرم کا شکار ہونے کے بعد خاموشی اختیار نہ کریں
اگر خدانخواستہ آپ کسی کی زیادتی کا شکار ہو جائیں، تو کبھی بھی اس شخص کو یہ نہ کہیں کہ “میں ابا کو بتاؤں گا/گی”۔ ایسی بات کرنے سے وہ شخص آپ کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

اس وقت خاموشی اختیار کریں اور بعد میں والدین کو سارا واقعہ تفصیل سے بتائیں۔ شرمانے کی ہرگز ضرورت نہیں کیونکہ والدین نہ صرف آپ کو سمجھیں گے، بلکہ اس مجرم کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

اجنبی افراد سے محفوظ فاصلہ رکھیں
گھر سے باہر، اجنبی افراد سے بات کرتے وقت کم از کم دو میٹر کا فاصلہ رکھیں۔ انہیں اپنے جسم کے قریب مت آنے دیں۔

والدین سے گزارش ہے کہ ان نکات کو صرف سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں بلکہ اپنی اولاد کے ساتھ بیٹھ کر نرمی، محبت اور سمجھداری سے ان باتوں پر گفتگو کریں۔ چھوٹے بچوں کو روزمرہ بات چیت میں یہ سب سکھانا، اور نوجوان بیٹیوں کو بالخصوص اعتماد دینا، آج کے دور کی اہم ترین تربیت ہے۔

Related Posts