کراچی: شہر قائد سے تعلق رکھنے والے معروف یوٹیوبر سید عباد مبینہ طور پر سندھ ہائی کورٹ سے روانگی کے فوری بعد نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا کر لیے گئے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عباد اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ عدالت سے واپس جا رہے تھے۔
سید عباد طویل عرصے سے اپنے والد کے دو سابق ملازمین خالد حسین اور عابد حسین کے ساتھ قانونی تنازعات میں الجھے ہوئے تھے۔ مذکورہ افراد نے عباد پر قتل کا مقدمہ درج کروایا تھا جس میں عدالت نے انہیں ضمانت دی تھی۔
اپنے وی لاگ میں عباد نے بتایا تھا کہ یہ دونوں افراد ان کے والد کے ملازمین رہے ہیں اور ان کے پاس جائیداد سے متعلق حساس کاغذات اور مالیاتی امور کی ذمہ داریاں تھیں۔
عباد کے مطابق جب ان کے والد شدید بیمار ہو گئے اور معاملات سنبھالنے کے قابل نہ رہے تو انہوں نے خود معاملات میں دخل دینا شروع کیا اور اس دوران مالی بے ضابطگیوں اور فراڈ کے شواہد دریافت کیے۔
انہوں نے الزام لگایا تھا کہ یہ دونوں افراد ان کے والد کے نام پر جعلی ادائیگیاں کر رہے تھے، اور ایک قیمتی پلاٹ کو خود کا ظاہر کر کے غیرقانونی طور پر فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب عباد نے قانونی کارروائی کی، تو دونوں ملازمین کے ساتھ ان کے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔
سید عباد نے مزید انکشاف کیا تھا کہ ان دونوں افراد نے ان کے خلاف مختلف درخواستیں دائر کیں، جنہیں عدالت نے مسترد کر دیا۔
حالیہ دنوں میں ان میں سے ایک نے عباد پر اپنے بھائی کے قتل کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کروا دی۔
عباد نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے کے وقت وہ ایک باربی کیو پارٹی میں موجود تھے اور اس دن کی ویڈیو بھی بنائی تھی، جو ان کی موجودگی کا ثبوت ہے۔
انہیں 24 جون تک ضمانت ملی تھی، جسے بعد میں عدالت نے 21 اگست تک توسیع دی لیکن حالیہ پیشی کے بعد جب وہ سندھ ہائی کورٹ سے نکلے تو ان کے ساتھیوں کے مطابق ایک سیاہ شیشوں والی بغیر نمبر پلیٹ والی پولیس موبائل میں سوار افراد نے انہیں زبردستی اٹھا لیا۔
خاندان نے فوراً مختلف تھانوں سے رابطہ کیا مگر عباد کسی بھی پولیس حراست میں موجود نہ تھے۔ بعدازاں ان کے اہلخانہ نے پریڈی تھانے میں اغوا کی باقاعدہ رپورٹ درج کروائی۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سید عباد نے اس سے قبل اپنے ویڈیوز میں کہا تھا کہ اگر انہیں یا ان کے خاندان کو کچھ ہوا، تو ان کے والد کے یہی دونوں سابق ملازمین ذمہ دار ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








