راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے نامناسب رویہ رکھنے پر نور مقدم کے مبینہ قاتل ظاہر جعفر کو الگ سیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے ساتھی قیدیوں سے جھگڑا کیا ہے جس پر علیحدہ سیل کا فیصلہ کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل راولپنڈی ارشد وڑائچ نے عربی میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر جعفر دیگر قیدیوں سے لڑ پڑے جس کے بعد انہیں الگ سیل میں منتقل کرنا پڑا۔ ان کا رویہ دیگر قیدیوں سے درست نہیں تھا۔
سپرنٹنڈنٹ جیل کے مطابق ظاہر جعفر میل جول کیلئے تیار نہ تھے، دیگر قیدی ظاہر جعفر کے اور ظاہر جعفر ان کے ساتھ رہنے پر راضی نہیں۔ ظاہر جعفر کو اگست کے آغاز میں عدالتی ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا، تاہم ان کا رویہ درست نہ ہونے کی شکایت سامنے آئی۔
گزشتہ ماہ ظاہر جعفر کو سیل میں 2 دیگر قیدیوں کے ساتھ رکھنے کی خبر سامنے آئی۔ فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ ملزم کو خودکشی کے خوف کے باعث ٹوتھ برش تک نہیں دیاجاتا۔ 2روز قبل ظاہر جعفر کو نئے سیل میں تنہا چھوڑ دیا گیا۔
اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں کو جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے، لائبریری سے کتب لینے، اخبار پڑھنے اور ٹی وی دیکھنے کے علاوہ چائے بنانے کی بھی اجازت ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ظاہر جعفر کو ایسی کوئی اجازت نہیں دی گئی۔
ظاہر جعفر کو مقدمے کی سماعت والے دن سیل سے نکال کر عدالت لے جایا جاتا ہے۔ امریکی شہری ہونے کی وجہ سے ظاہر جعفر امریکی سفارت خانے کو کال کرسکتا ہے تاہم ملزم کو قانونی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے گھر کا کھانا فراہم کرنے کی بھی تردید کی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، غیرت کے نام پر چھریوں کے وار، نوجوان لڑکا جاں بحق، لڑکی زخمی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








