نور مقدم کیس، سوشل میڈیا پر ظاہر جعفر کے پرتشدد پیغامات کا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

Jafar was sentenced to death

اسلام آباد: سابق پاکستانی سفیر کی صاحبزادی نور مقدم کے قتل میں ملوث ظاہر جعفر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر تشدد سے بھرپور پیغامات کا انکشاف سامنے آگیا، ملزم طویل عرصے سے کسی کا سر کاٹ کر اسے قتل کرنا چاہتا تھا۔

تفصیلات کے مطابق مقتولہ نور مقدم اور ملزم کی مشترکہ دوست زہراء حیدر نے متعدد فیس بک اکاؤنٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے جن سے ظاہر جعفر کے ذہن میں موجود خلفشار اور نفسیاتی الجھنوں کا پتہ چلتا ہے۔

آج سے 6 سال قبل 2015 تک کے پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ ظاہر جعفر سوشل میڈیا پر پرتشدد پیغامات مسلسل شیئر کرتے رہنے کا عادی تھا جس کا نفسیاتی علاج نہ ہوسکا اور آگے چل کر اس نے قتل کا ارتکاب کیا۔

واقعے کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے زہراء حیدر کا کہنا ہے کہ جب تک مجھے ایک دوست نے خبردار نہیں کیا تھا، میں فیس بک کے اسکرین شاٹس شیئر کرنا نہیں چاہتی تھی۔

زہراء حیدر نے کہا کہ ملزم ظاہر جعفر کے ماضی کے پیغامات دیکھ کر میں اور میری مذکورہ دوست خوفزدہ ہیں کہ نور مقدم کو جس انداز میں قتل کیا گیا، ملزم کے پیغامات پہلے ہی دنیا کو اس کا اشارہ دے چکے تھے۔ 

اگر ان پیغامات کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک پیغام میں ظاہر جعفر نے بظاہر مذاق میں کسی کا سر کاٹ کر تن سے جدا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ ایک اور پیغام میں ملزم نے کہا کہ جلنا خواتین کی فطرت ہوتی ہے۔

خواتین سے احساسِ کمتری کا شکار ملزم ظاہر جعفر نے کہا کہ خواتین زیادہ تر دبلی پتلی اور سرکٹی ہوتی ہیں۔ 2013 میں ظاہر جعفر نے بوسٹن میں بم دھماکوں پر بھی قابلِ اعتراض بیان جاری کیا۔

ظاہر جعفر نے چارلس مینسن نامی ایک امریکی مجرم کیلئے بھی اچھے جذبات کا اظہار کیا جو کیلیفونیا میں ایک گروہ کا سرغنہ تھا جس کے ہرکاروں نے 1969ء میں 9 افراد کو قتل کردیا تھا۔ 

قبل ازیں نور مقدم کیس میں نیا موڑ آگیا، ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر نے مبینہ طور پر سابق پاکستانی سفیر کی صاحبزادی کے قتل کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔

آج سے 2روز قبل ملزم ظاہر جعفر کے والد نے قتل کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی اور اپنے بااثر دوستوں سے قتل کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی درخواست کرتے رہے۔

مزید پڑھیں: نور مقدم کیس، ملزم کے والد کی قتل کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش

Related Posts