بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے شہر دھرم شالہ میں ایک کالج کے پروفیسر اور 3طالبات نے 19سالہ طالبہ کو ریگنگ کے نام پر جنسی ہراسانی اور انسانیت سوز تشدد کیا، جس کے نتیجے میں جواں سال پلوی کچھ عرصہ موت اور زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد انتقال کر گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی پولیس نے ریگنگ، جسمانی تشدد اور جنسی ہراسانی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبات اور پروفیسر کی جانب سے جنسی ہراسانی کا واقعہ گزشتہ برس ستمبر میں پیش آیا تھا، تاہم طالبہ کے اہل خانہ نے دسمبر 2025 میں پولیس سے رجوع کیا۔ طالبہ کے بستر مرگ پر آخری بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔
Do share maximum 💔
19 year old Pallavi lost her life after fighting for more than 2 months. She was a victim of brutal ragging by her own college girls and even a professor. The fear in her voice says everything. Even today our education system has failed to end ragging.🕉️… pic.twitter.com/NWmzWKvZw9
— Nikhil saini (@iNikhilsaini) January 2, 2026
ویڈیو میں متاثرہ طالبہ کا کہنا ہے کہ اسے بوتلوں سے مارا گیا اور انسانیت سوز سلوک کا نشانہ بنایا یگا۔ طالبہ کے والد نے مقدمہ درج کرایا جس کے مطابق 3طالبات نے ان کی بیٹی پر جسمانی تشدد کیا، ڈرایا دھمکایا اور خوفزدہ کردیا جبکہ کالج کے پروفیسر نے فحش اور غیر اخلاقی حرکات کیں۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبہ پہلے ہماچل پردیش کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج رہی تاہم حالت مزید خراب ہونے پر لدھیانہ کے ہسپتال میں منتقل کردی گئی تاہم 26دسمبر کو وہ انسانیت سوز تشدد سے ہونے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دورانِ علاج دم توڑ گئی۔
🎥 | In a video recorded before her death, a Dharamshala college student recounts alleged ragging, assault and sexual harassment. An FIR has been filed against a professor and three senior students as the case triggers widespread outrage.#Dharamshala #RaggingCase… pic.twitter.com/STPOcqT3S0
— The Statesman (@TheStatesmanLtd) January 3, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرانے میں تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ طالبہ طویل اور دردناک بیماری میں مبتلا تھی اور جب وہ انتقال کر گئی تو اہل خانہ شدید صدمے کا شکار ہوگئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔
بی جے پی رہنما جے رام ٹھاکر سمیت ملک کی متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے 19سالہ طالبہ کی موت کو انتہائی شرمناک واقعہ قرار دیتے ہوئے پولیس کی مبینہ غفلت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور معاملے کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔
ماضی میں بھی بھارت کے تعلیمی اداروں میں اس قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جبکہ بھارتی قانون میں اس قسم کے جرائم پر سخت قوانین کے باوجود طاقت کا غلط استعمال اور خوف طلبہ و طالبات کو اس قسم کے حالات میں دھکیل دیتا ہے جہاں انسانیت سوز سلوک ان کی جان لے کر چھوڑتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








