حیرتوں کانیا جہان دریافت، ناسا دوربین ہبل سے ضم ہوتی 2 کہکشاؤں کی تصویر جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

واشنگٹن: امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کی بڑی دور بین ہبل سے 2 ایسی کہکشاؤں کی تصویر جاری کی گئی ہے جو آپس میں ضم ہوتی نظر آتی ہیں۔ ماہرین نے حیرتوں کے نئے جہان کا مطالعہ شروع کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ہبل نے زمین سے 67 کروڑ نوری سال کی دوری پر موجود مسخ شدہ کہکشاں دراصل دو کہکشاؤں کا مجموعہ ہے جو ایک انگوٹھی کی صورت میں نظر آرہا ہے۔ دونوں کہکشاؤں کے کور ایک دوسرے سے جڑ گئے۔

یہ بھی پڑھیں:

میٹا کا پروفائل سے مذہبی، سیاسی اور جنسی ترجیحات ہٹانے کا اعلان

ہبل نے دونوں کہکشاؤں کا منظر عکس بند کرنے کیلئے ایڈوانسڈ کیمرے کا استعمال کیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ آلہ کہکشاؤں اور ان کے مجموعے (کلسٹرز) کو عکس بند کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے تاکہ کائنات کا علم حاصل ہوسکے۔

Galaxy Merger Arp-Madore 417-391

سائنسدانوں نے یہ تصویر ہبل مشاہدات کے انتخاب سے حاصل کی جو دیگر زمینی دوربینوں کے ساتھ فالو اپ مشاہدات کیلئے دلچسپ اہداف کی فہرست بنانے کیلئے تخلیق کیا گیا تھا۔ ماہرین ہبل کے محدود مشاہداتی وقت کو ہر ممکن حد تک مکمل استعمال کرتے ہیں۔

قبل ازیں امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کی دور بین ہبل نے زمین سے 18 کروڑ نوری سال کی دوری پر واقع خوبصورت کہکشاں این جی سی 1961 کی تصویر جاری کی تھی۔

ستمبر کے دوران ہبل کی جاری کردہ تصویر میں این جی سی 1961 نامی کہکشاں ستاروں کے چمکدار اور نیلے رنگ کے جھرمٹ کہکشاں کے بیرونی کناروں پر دیکھے جاسکتے تھے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ روشنی کی مخصوص مقدار میں کچھ ستارے اکثر کہکشاں کے باقی حصوں سے زیادہ چمکتے ہیں۔

Related Posts